30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اور کہیں بالکل نہ ہو جس سے اس کی مقدار ۴ سے زائد اور ۷ سے کم رہے، مواقف و صدرا سے یہی شق رہ گئی، شرح مقاصد میں اس کی طرف توجہ کی کہ یوں ممتنع ہے کہ خطوط مستقیم ہیں اور تاحدِ امکان ملادیئے ہیں۔
اقول:تاحدِّ امکان ملادینا نفی خلا کرتا ہے تو پہلی ہی شق پر اقتصار واجب تھا باقی سب بے کار، اور جب اس کے بعد یہی خلا کا احتمال اور اس کی وہ تین شقیں ممکن رہیں تو اس چوتھی سے کون مانع ہے کیا واجب ہے کہ ملانے کا اثر سب اجزاء پر یکساں ہو بلکہ یہی کیا ضرور ہے کہ تمہارے ملانے کے بعد خطوط مستقیمہ ہی رہیں، غایت یہ کہ مستقیمہ رہ کر بھی تفاوت خلا سے مربع نہ بنے پھر اس کا بننا ہی کیا ضرور، بلکہ نہ بنا ضرور کہ عروسی حماری نہ بگڑیں۔
ثم اقول:ابن سینا کی یہ جاں کا ہی پتہ دے رہی ہے کہ اصحاب جز کی طرف اس کی وہ نسبت اقرار مربع غلط تھی ورنہ نہ اس محنت کی حاجت ہوتی نہ ان شقوں کی نہ حماری کا خلف دکھانے کی نہ آسانی کو کوئی خاص شمارا جزاء فرض کرنے کی بلکہ اتنا کہہ دینا کافی ہوتا کہ مربع تمہیں مسلم اور برتقدیر اجزا ہر ضلع میں جتنے الزاویہ جس کا ہر ضلع میں جتنے جزہوں گےاتنے ہی قطر میں آئیں گے اور یہ عروسی سے باطل۔
شبہہ ۲۱:مثلث قائم الزاویہ جس کا ہر ضلع ۵، ۵ جز ہے، بحکم عروسی اس کا وتر ۵۰ کا جذر ہوگا اب ہم اس وتر کا ایك سرا اس کے پاس کے ضلع کا ایك جز چھوڑ کر رکھیں تو ضرور ہےکہ دوسرا سرا ایك جز سے کم اپنے پاس کے ضلع سے سر کے توجز منقسم ہوگیا ایك جز سے کم سرکنا یوں ضرور ہے کہ اگر یہ بھی ایك جزسر کے تو پہلا ضلع ۴ جز کا ہوا اور دوسرا ۶ کا تو یہ وتر ۵۲ کا جزر ہوگیا حالانکہ ۵۰ کا تھا(صدرا)
اقول:تیمم تقریب یہ ہےکہ مثلًا مثلث ا ب ح میں جب وتر ا ح کو نقطہ سے نیچے سرکا کر مثلًا نقطہ ء پر رکھو تو محال ہے کہ اس کا دوسرا کنارہ نقطہ ح پر منطبق رہے ورنہ ء ح = ا ح ہو۔

حالانکہ قطعًا چھوٹا ہے کہ وہ ا ب،ب ح کے مربعوں کا جزر ہے۔
اور یہ ء ب ۶ ب ح کے ب ح مشترك ہے اور ء ب، ا ب سے چھوٹا ہے تو اس کا مربع چھوٹا ہے تو ان دو مربعوں کا مجموع ان دو مربعوں کے مجموعہ سے چھوٹا ہے تو ان کا جذر ء ح ان کے جذر ا ح سے چھوٹا ہے تو واجب ہے کہ وتر کا دوسرا کنارہ بھی نقطہ ح سے آگے پڑے اور اس کا وقوع خط ب ح کی استقامت پر ممکن بلکہ واقع ہے مثلًا ا ب دیوار ہموار ہو
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع