30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تو اس کی تقسیم نامتناہی ہوئی اور یہ ان کے مذہب کے خلاف ہے کہ ہر بعد کو وہ بھی متناہی مانتے ہیں۔
اقول:اولًا:کلام وجود دائرہ میں تھا نہ نرے تو ہم وتخیل میں کہ محتاج تجشم نہ تھا اور اس تدبیر سے ثابت ہوا تو و ہی توہم نہ واقع میں۔دائرہ بنالینا کہ یہ تدبیر نہ ہوگی مگر وہم میں واقع میں ایك جز کی قدر نشیب و فراز کو نہ امتیاز کرسکتے ہو نہ اس کے بھرنے کو ایك جز کہیں سے لاسکتے ہو، تو جو مقصود تھا ثابت نہ ہوا، اور جو ثابت ہوا مقصود نہ تھا، یہ ابن سینا کی ریاست ہے۔
ثانیًا:ابن سینا کی جاں فشانی پر افسوس آتا ہے کہ محض خرط القتا د ونفح فی الزماد ہے دو جز متصل ہو ہی نہیں سکتے، ان سے خلا بھرنا کیسا، ایسی ہی تقریر شبہ ثالثہ میں تھی اور وہیں اس کا رَد گزرا۔
ثم اقول:یہ سب بردو مات بے وجہ ہے، ہمارے نزدیك تحقیق یہ ہے کہ نہ براہین ہندسیہ نفی جز پر مبنی نہ ان سے نفی جز ہو سکے، ان کی بنا خطوطِ موہومہ پر ہے اگرچہ واقع میں اجزاء سے ترکب ہو، عمارتوں میں ان سے مدد لی جاتی ہے، دیواروں و ستون کو کون کہہ سکتا ہے کہ متصل وحدانی ہیں، مگر وہی اتصال موہوم کام دیتا ہے اور نفی جز ان سے یوں نہیں ہوسکتی کہ وہ وجود جز باطل نہیں کرتیں بلکہ اتصال اور وہ خود محال، وباﷲ التوفیق، اب ان شبہات کو اگر ہم ذکر نہ بھی کریں عاقل خود ان کا جواب سمجھ لے گا مگر گنا دینا مناسب کہ ناواقف کو یہ وہم نہ ہو کہ فلاں شبہ جواب سے رہ گیا معہذا بعونہ تعالٰی بیان جوابات عدیدہ و افاداتِ جدیدہ لائے گا وباﷲ التوفیق۔
شبہ ۱۶:بحکم شکل عروسی قطر مربع یعنی و تر مثلث قائم الزاویہ متساوی الساقین کا مجذور مجذور ضلع کا دو چند ہے، اور اصول ہندسیہ میں ثابت ہوچکا ہے کہ نسبت مجذورین مجذور نسبت جذرین ہوتی ہے تو ضرور قطر وضلع مذکور میں وہ نسبت ہے کہ اس کی مثناۃ بالتکریر ہے یعنی اس کا مجذور دو ہے اور دو کسی عدد کا مجذور نہیں تو ضرور قطر وضلع مذکور میں نسبت صمیہ ہے جس کے لیے کوئی عاد مشترك نہ نکل سکے اور اعداد میں یہ نسبت محال کہ سب کا عاد کم از کم ایك موجود ہے اور اگر ان خطوط کا ترکب اجزاء سے ہوتا تو ضرور ان میں نسبت عددیہ ہوتی یعنی ضلع کو وہ نسبت قطر سے ہے جو ایك کو اتنے سے اس نسبت کا نہ ہوسکنا دلیل روشن ہے کہ ان کا ترکب اجزاء سے نہیں بلکہ یہ مقادیر متصلہ ہیں جن میں نسبت صمیہ پائی جاتی ہے۔(صدرا)
اقول:ہاں اجزائے متفرقہ سے ترکب ہے اور خطوط موہومہ سے اتصال، ان کی نسبت عددیہ ہے اور یہ صمیہ ان موہومات کی، برہان نے یہی تو ثابت کیا کہ ان مقادیر متصلہ میں نسبت صمیہ ہے،
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع