30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اقول:یعنی سطح متناہی ہو اور یہ خط اس میں ایسی جگہ کہ کسی طرف سطح کا امتداد اس خط کی مقدار سے کم نہ ہو)اس خط کا ایك کنارہ ثابت رکھیں اور دوسرے کو دورہ دیں یہاں تك کہ اپنے محل اول پر آجائے اس دورہ سے سطح دائرہ حاصل ہوگی جیسے عمل پر کار سے، لیکن برتقدیر جزیہ حرکت خط جس سے دائرہ بنایا خود محال ہے کہ مستلزم محال ہے تو بے نفی جز ان میں سے کسی کا اثبات محض خیال ہے۔ملاّ حسن نے حواشی صدرا میں اس حرکت کا استحالہ یوں بتایا کہ خط کا ایك کنارہ ثابت رکھ کر دوسرے کو جو حرکت دی ہے یہ کنارہ جتنی دیر میں اس سطح مستوی کا ایك جز قطع کرے وہ جز خط کہ کنارہ ثابتہ کے متصل ہے اگر وہ بھی ایك ہی جز قطع کرے یونہی آخر تك جب تو دائرہ صغیرہ وکبیرہ مساوی ہوجائیں گے اور اگر جز سے کم تو جز منقسم ہوگیا اور اگر یہ ساکن رہے تو خط کے اجزاء بکھر گئے تو دائرہ پورا ہونا لازم نہ ہوگا حالانکہ لازم مانا تھا تینوں شقیں محال ہیں لہذا وہ حرکت محال ہے۔
اقول:کلام یہاں طویل ہے اور انصاف یہ کہ تخیل دائرہ ان تجشمات کا محتاج نہیں اور وجود دائرہ کا ان سے ثبوت نہیں ہوسکتا کہ یہ سب تخیلاتِ نامقدورہ ہیں خارج میں پرکار ہے جو بحالت اتصال جسم دائرہ حقیقیہ بنانے کی ضمانت نہیں کرسکتی، نہ وہ سطح جسے مستوی سمجھیں واقع مستوی ہونی ضرور جس سے حقیقت تك عظیم فرق ہے نہ پرکار کی رفتار میں اول سے آخر تك فرق نہ پڑنے کی ذمہ داری ہوسکتی ہے نہ وہ نشان کہ اس سے بنے تمام مسافت میں یقینی یکساں ہونے کی تو وجود ثابت نہیں مگر دائرہ حسیہ کا صدرا نے با آنکہ اقرار کیا کہ ابطال جز پر اشکالِ ہندسیہ سے استدلال ضعیف ترین طریق ہے کہ ان کا وجود اور اتصال جسم ماننا ایك ہی چیز ہے مگر مربع مثلث قائم الزاویہ کا استثنا کیا اس بنا پر کہ ابن سینا نے اصحابِ جز کا مذہب بتایا کہ مربع کے منکر نہیں۔اور ظاہر ہے کہ مربع میں قطر ڈالنے سے دو مثلث قائم الزاویہ پیدا ہوں گے تو جو دلیل اس پر مبنی ہو اصحابِ جز سے اس کا دفع ناممکن ہے انتہی، اصحاب جز کی طرف یہ نسبت کذب محض ہے ان کی کتب میں کہیں تسلیم مربع حقیقی کا پتہ نہیں۔
اقول:بلکہ وہ صراحتہً وجود زاویہ کا انکار کرتے ہیں پھر مربع کہاں سے آئے گا صراحۃً سرے سے مقدار ہی نہیں مانتے تو کوئی شکل کہاں سے آئے گی۔ابن سینا نے کہا ہمارے پاس وجود دائرہ کے دو ثبوت اور ہیں کہ نفی جز پر مبنی نہیں۔
اوّل: اجسام میں بسیط بھی ہیں۔(یعنی مرکبات کی انتہا بسائط کی طرف لازم)اور بسیط کی شکل طبعی کُرہ ہے، اور جب کرے کے دو حصے مساوی حسایا وہمًا کیے جائیں گے۔دو۲ دائرہ حاد ث ہوں گے۔بحرالعلوم نے فرمایا یہ اگرچہ نفی جز پر مبنی نہیں۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع