30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
شبہ اتصال جز میں جدا تھا جس کا انکشاف بحمدہ تعالی بروجہ احسن ہوگیا باقی تمام شبہات سابقہ ولا حقہ کے جواب میں یہی ایك حرف کافی کہ اتصال جزئین محال والحمدﷲ شدید المحال۔
تنبیہ،اقول:اس شبہ کی ایك تقریر یوں ہوسکتی ہے کہ ا ب ح تین جز ہیں شك نہیں کہ ب کے ایك طرف ا ہے اور اس کے دوسری طرف ح کوئی نہیں کہہ سکتا کہ وہ دونوں اس کی ایك ہی طرف ہیں تو ضرور ب میں دو طرفین ممتا زہیں جن کی طرف اشارہ حسیہ جدا ہے تو شے دون شے کا مصداق ہوگیا اور یہی انقسام ہے اور جواب ہماری تقریر سابق سے واضح ہے۔
اولًا:ب کی ایك طرف ا اور اس کی دوسری طرف ح نہیں بلکہ ب سے ایك طرف ا اور اس سے دوسری طرف ح ہے تو انقسام نہیں اور دونوں عبارتوں کا فرق ہمارے بیان سابق سے روشن ہے۔
ثانیًا:تین مخروط ہیں ان کے رؤس نقاط ا،ب،ح،٭ا ٭ب٭ح، یہ تقریر بعینہ ان تین نقطوں میں جاری کون کہہ سکتا ہے کہ ا و ح دونوں ب کے ایك طرف ہیں، اگر کہیے کہ یہ انقاط معدوم و موہوم ہیں تو ان کے لیے جہات نہیں۔
اقول:اولًا:خود فلاسفہ قائل اور دلائل قاطعہ قائم کی کہ اطراف یعنی سطح و خط و نقطہ کہ نہایات جسم و سطح و خط ہیں موجود فی الخارج ہیں۔
(۱)اقلیدس نے اس کا موجود ہونا اصول موضوعہ میں رکھا، طوسی نے تحریر میں اس کی تقریر کی، علامہ قطب الدین شیرازی نے حواشی حکمۃ العین میں فرمایا، انہیں موجود نہ ماننا مذہب فلاسفہ کے خلاف ہے، انہوں نے حکماء کا لفظ کہا ہے اور مشائین و اشراقین کسی کی تخصص نہ کی، نیز فرمایا کہ اطراف یعنی خط وسطح ان کے نزدیك انواع کم متصل موجود فی الخارج سے ہیں تو معدوم کیسے ہوسکتے ہیں۔یعنی تو یونہی نقطہ کہ وہ خط موجود کی طرف ہے بعض متاخرین نے کہ ان کا وجود انتزاعی مانا، باقر نے صراط مستقیم میں اسے رد کیا اور ان بعض کے زعم کو کہ ابن سینا نے اس کی تصریح کی۔حمد اﷲ علی المتشدق نے فی الآن میں خلافِ واقع بتایا۔
(۲)شرح حکمۃ العین میں کہا کہ اطراف اگر موجود نہ ہوں تو وہ مقدار متناہی نہ ہوگی ضرور ہے کہ مقدار متناہی کسی شے پر ختم ہوگی وہی اس کی طرف ہے تو مقادیر متناہیہ کے اطراف بلاریب موجود ہیں۔
(۳)صاحبِ حکمۃ العین نے اپنی بعض تصانیف میں اس پر یہ دلیل قائم کی کہ دو۲ جسموں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع