30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
باقی چار حقیقۃً انسان و حیوانات میں ہیں کہ جو انسان کے منہ کی جانب ہے اس سے آگے ہے اور پیٹھ کی طرف پیچھےداہنے ہاتھ کی طرف اس سے جانب راست اور بائیں کی طرف جانب چَپ، حجر سے حقیقتًا نہ کچھ آگے نہ پیچھے نہ داہنے نہ بائیں، ہاں غیر ذی روح کو ایك طرف متوجہ فرض کرو تو اس فرض سے یہ چاروں جہتیں فرضًا پیدا ہوجائیں گی۔انسان و حیوان میں ان کی تبدیل وضع کے بغیر نہ بدلیں گی، انسان جب تك مشرق کو منہ کیے ہے جو چیز اس سےشرق ہے اس سے آگے اور غربی پیچھے اور جنوبی داہنے شمالی بائیں ہے، ہاں جب غرب کو منہ کرلے گا سببدل جائیں گی، لیکن حجر میں بے اس کی تبدیل وضع کے محض تبدیل فرض سے مبدل ہوں گی، پتھر کو جو مشرق کی طرف متوجہ فرض کرے اس کے نزدیك وہ پہلی بار چار جہتیں ہیں اور اسی حال میں جو اسے مغرب کی طرف متوجہ قرار دے اس کے نزدیك پچھلی یہاں توجہ کی تعین جہتِ حرکت سے ہوجاتی ہے جو جس طرف متحرك ہے اسی طرف متوجہ سمجھا جاتا ہے کہ عادتًا انسان یا حیوان جدھر چلے اس طرف منہ کرتا ہے تو پتھر یا جز مثلًا اگر شرق کی جانب متحرك ہو جو اس سے شرق ہے آگے ہے یعنی اس سے جہت حرکت کی طرف ہے اور غربی پیچھے یعنی جہت متروك مبدء کی طرف اور جنوبی راست یعنی اس سے جانب جنوب کو اور شمالی چپ یعنی جانب شمال کو اسے انقسام سے کیا علاقہ، اور شك نہیں کہ اس کے لیے تحیز بالذات کی حاجت نہیں۔
(۱)کون کہہ سکتا ہےکہ فلك کا محدب ا وپر اور مقعر نیچے نہیں۔(۲)کیا معدل النہار منطقۃ البروج سے اوپر نہیں۔
(۳)کیا نقطہ اعتدال سے مرکز نیچا نہیں۔(۴)کیا راس الحمل سے راس الثور آگے اور راس الحوت پیچھے نہیں۔
(۵)کیا توالی بروج میں انقلاب صیفی سے اس کا نظیرہ داہنی جانب اور شتوی سے اس کا نظیرہ بائیں جانب نہیں، الٰی غیر ذلک۔
(۶۔۷)فلاسفہ کی تصریح ہے اور خود علامہ سید شریف قدس سرہ، نے بعض حواشی میں فرمایا کہ خط کی دوجہتیں ہیں اور سطح کے لیے چار۔
اقول:یعنی خط کے لیے فوق و تحت کہ امتداد طولٰی سے ماخوذ ہیں اور سطح کے لیے یمین و یسیار بھی کہ امتداد عرضی سے لیتے ہیں نہ قدام و خلف کہ امتداد عمق سے ہیں تو ثابت ہوا کہ اولًا: تحیز بالذات کی تخصیص باطل۔
ثانیًا:منشا شبہ دو معنی جہت کا اشتباہ تھا اس کے کشِ سے زاہق و زائل ایك یہی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع