30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سائل معترض نے براہ خطا وضع کی ہے' نہ سالم حضرت حذیفہ بن الیمان رضی الله تعالٰی عنہم کے مولٰی تھے نہ حذیفہ کا کوئی مولٰی سالم،بفرض صحت قطعًا اس کی وہی مراد ہے جو حدیث ابن ام عبدرضی الله تعالٰی عنہ کی ہے۔
(۴)"من اتاکم وامرکم جمیع" صحیح مسلم میں ہے مگر یوں۔
|
ستکون ھنات وھنات فمن ارادان یفرق امرھذہ الامۃ وھی جمیع فاضربوہ بالسیف کائنا من کان۔[1] |
عنقریب فتنے ہوں گی تو جو شخص اس امت کی جمیعت کو توڑنے کا ارادہ کرے اس کو تلوار سے مارو چاہے وہ کوئی شخص ہو۔(ت) |
یا یوں۔
|
"من اتاکم وامرکم جمیع علٰی رجل واحدیرید ان یشق عصاکم اویفرق جماعتکم فاقتلوہ"[2] |
جب تم ایك شخص کی امامت پر متفق ہو جاؤ تو جو شخص تمہارے اتحاد کی لاٹھی کو توڑنے یا تمہاری جماعت میں تفریق ڈالنے کی کوشش کرے تو اس کو قتل کردو۔(ت) |
لمعات میں ہے:
|
"ادفعوا من خرج علی الامام بالسیف و ان کان اشرف و افضل و ترونہ احق وافضل"[3] |
جو شخص امام کے خلاف خروج کرے تو تلوار کے ساتھ اس کا دفاع کرو اگرچہ وہ خروج کرنے والا اشرف وا فضل ہو اور تم اس کو زیادہ حقدار اور افضل سمجھتے ہو۔(ت) |
تو کلام خروج علی الامام میں ہے:
|
ثبت العرش ثم القش۔ |
کمال تحقیق ثابت ہو گئی اور گردوغٖبار چھٹ گیا |
جہاں امام نہ ہو اسی صحیح مسلم میں حکم یہ ہے:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع