30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہیں نہ کہ اُن کا جسم سے ترکب(مواقف و شرح)ماد متحیز سے متحیز بالذات ہے کہ اسی کو جہات درکار، بخلاف نقطہ و خط وسطح عرضیات کہ ان کا تحیز بہ تعبیت جسم ہے توان کے لیے جہات متصور نہیں۔(سید)ملا عبدالحکیم نے حاشیہ میں جواب دیا کہ یہ بدہات بداہتِ وہم ہے، مالوف و معہود اشیائے منقسمہ ہیں ان میں جہات ایسی ہی ہوتی ہیں وہم سمجھتا ہے کہ سب میں یونہی ضرور ہیں۔)حالانکہ غیر منقسم کا منقسم پر قیاس باطل ہے وہ بذاتِ خود ہر شے کا محاذی ہوگا جیسے نطقہ مرکز کہ خود ہی تمام نقاطِ محیط کا محاذی ہے نہ یہ کہ جدا جدہ حصوں سے ہر نقطے کی محاذات کرے اور اس کی تحقیق یہ ہے کہ محاذات ایك امر اعتباری ہے کہ دو چیزوں کی ایك وضع خاص سے منتزع ہوتی ہے اس کے لیے ایك طرف سے تعدد بس ہے دونوں طرف تعدد کی کیا حاجت، جیسے ایك با پ کے دس۱۰ بیٹے ہوں، اس کے لیے ہر ایك کے اعتبار سے ایك ابوت ہونا اس کی ذات میں تعدد کا باعث نہیں، ہاں اگر محاذات کوئی عرض قائم بالمحل ہوتی تو ضرور ہر محاذات کے لیے محل جدا گانہ درکار ہوتا اور انقسام لازم آتا انتہی یہ جواب باول نظر ہمارے خیال میں آیا تھا۔
والآن اقول:وباﷲ التوفیق(اب میں کہتا ہوں اﷲ تعالٰی کی توفیق کے ساتھ ت)
جہت ووضع کی سبیل واحد ہے جس طرح وضع کبھی اجزائے شے کی باہمی نسبت سے لی جاتی ہے اور کبھی بلحاظ خارج، دوم ہر ذی وضع کے لیے لازم متحیز بالذات ہو خواہ بالتبع، شك نہیں کہ راس مخروط کا نقطہ ایك وضع ممتاز رکھتا ہے کہ وضع مخروط سے جدا ہے بلاشبہ وہ قاعدے اور اس کے دائرے اور اس کے ہر نقطے سے ایك جہت مخصوص رکھتا ہے اور اس تکثر جہات سے متکثر نہیں ہوتا، یونہی جز، اور بمعنی اول نہ ہوگی مگر متجزی میں اسے غیر متجزی میں تلاش کرنا خلافِ عقل ہے، یونہی جہت کے دو معنی ہیں، ایك شے کے باہم حصص میں کہ اس کا ایك حصہ اوپر دوسرا نیچے ہو، ایك حصہ آگے دوسرا پیچھے ہو، ایك حصہ داہنا دوسرا بایاں، یہ غیر متجزی میں قطعًا محال اور اسے بدیہی ماننا قطعًا باطل خیال، بلکہ اس میں اس کا نہ ہونا بدیہی ہے۔دوم شے کے لیے خارج کے لحاظ سے یہ منقسم وغیر منقسم متحیز بالذات و بالتبع سب میں ہوگی۔یہی ہر متحیز کے لیے بدیہی ہے اور ا س سے انقسام لازم نہیں کہ محض نسبت ہے اور تعددِ نسب سے منتسب میں حصے نہیں ہوجاتے دو جہت واقعہ غیر متبدلہ یعنی فوق و تحت میں تو ظاہر یہ ایك سے فوق یعنی بہ نسبت اس کے مرکز سے بعید یا تمہارے طور پر محدب سے قریب ہے اور دوسرے سے تحت یعنی بہ نسبت اس کے مرکز سے قریب ہے تو ان میں منقسم کی بھی نفسِ ذات ہی کا اعتبار ہے نہ حصص کا تو غیر منقسم کے حصے کہاں سے ہوجائیں گے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع