30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
شبہ ۱۳:تین خط اجزائے لاتتجزٰی سے مرکب آپس میں متماس، فرض کریں ان میں ایك فلك الافلاك کے قطر پر منطقہ ہو او ر اس کے ایك جانب خط ا ب دوسری طرف خط ح ء اس شکل پر
امیج بنانی ہے جلد ۲۷ ص ۵۵۰
اور ا سے ء تك ایك خط ملائیں ضرور یہ خط ا ء ایك قطر فلك الافلاك پر ہوگا کہ اس کے مرکز پر گزرا ہوا دونوں طرف محدب سے ء ا ملاصق ہے، تو ثابت ہوا کہ اگر خط کا اجزا سے ترکب ممکن ہو تو فلك الافلاك کا قطر تین جز کی قدر ہو اس سے بڑھ کر اور کیا استحالہ درکار(حواشہ فخریہ)
اقول:توجیہ و تقریب یہ ہے کہ ہ ر قطر ہے اور ا ب ح ء اس کے مقارن و موازی چاروں طرف اس کے مساوی فصل پر ہیں تو ا ہ۔ہ۔ج۔ب ر۔ر ء چاروں قوسین برابر ہیں تو ان کے یہ چاروں زاویہ ا ہ ر ج ہ ر۔ب ر ہ۔ء ر ہ کہ مساوی قوسوں پر پڑے مساوی ہیں۔

تو مثلث(ا ہ ن ۶ ء ر ن)سے یہ دونوں زاویہ اور قوسین(ا ہ ۶ ء ر)اور دونوں زاویہ(ن)بوجہ تقاطع برابر ہیں تو بحکم شکل(۲۶ ہ ن = ن ر۔)لاجرم ن جس پر خط ا ء گزرا مرکز ہے اور وہ ا ن ء دونوں کنارے محدب پر بھی گزرا ہے، تو قطر فلك الافلاك ہے اور ضرور وہ ان تین خطوں سے ایك ہی ایك جز لے گا ا ب سے ا ہ ر سے(ن ج ء)سے ء کہ اگر طرفین میں کسی سے دو جز پر گزرے تو زاویہ پیدا ہو کر دو خط ہوجائے گا یوں(ن /ح)اور وسطانی سے دو جز لے تو دو زاویے پیدا ہو کر تین خط یوں(ا۔ن ح۔یا ا ح ن ء)تو ثابت ہوا کہ قطر فلك الافلاك صرف تین جزء لایتجزی کے برابر ہوگا۔یہ تقریر شبہ ہے علامہ بحر العلوم قدس سرہ، نے حواشی صدرا میں اس کا یہ رد فرمایا کہ اصل جز پر اس وصل خط کا امکان ممنوع۔
اقول:ہر دو نقطوں میں وصل خط اگرچہ وہمًا کا امکان بدیہی ہے صالح انکار نہیں رہا یہ کہ پھر جواب صحیح کیا ہے۔
اقول:واضح ہے خطوط جوہری کا اتصال محال ضرور ان میں امتداد فاضل ہوگا۔ا سے مرکز تك نصف قطر فلك الافلاك ہوگا اور مرکز سے ء تك دوسرا نصف۔
شبہ ۱۴:ہر متحیز کی داہنی جانب بائیں کی غیر ہوگی یونہی تمام جہات مقابلہ اور یہ حکم بدیہی ہے تو قطعًا ہر متحیز جمیع جہات میں منقسم ہوگا، تو نہ ہوگا مگر جسم تو جوہر فرد و خط جوہری وسطح جوہری خود ہی محال
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع