30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مرکب ۱ ب ح دوسرا دو جز سے ء ہ یہ دوسرا اس سے پہلے پر ہے یوں کہ ا کے مقابل ء، اور ب کے محاذی ہ اور اس دوسرے پر ایك جز ر اس کے ء پر ہے۔اس شکل پر اب فرض کر و خط ء ہ خط ا ب ح پر بقدر ایك جز کے حرکت کر لے تو ضرور ر کہ اس پر رکھا ہے بالعرض وہ بھی متحرك ہوگا اگر خود حرکت نہ کرتا اس حرکت سے یہ شکل ہوجاتی ر ا سے منتقل ہو کر ب پر آیا ہ ب سے چل کر أ ب ہ ح ح پر اور ر حرکت عرضیہ کے سبب ء ہ ا سے ہٹ کر ب پر لیکن فرض کرو کہ اس نے اپنی ذاتی حرکت بھی ایك جز کی تو شکل ا ب ج یوں ہوئی ر کہ ر ایك جز حرکت عرضیہ سے ہٹا، ورنہ ایك جز حرکت ذاتیہ سے اور ا سے ا ب ء ج ہ، ح کے مقابل ہوگیا، تو جتنی دیر میں ر نے اپنی مجموعی حرکتین سے دو جز قطع کیے ب و ج اتنی دیر میں ء نے ایك ہی جز طے کیا ب تو جتنی دیر میں ر اپنی مجموع حرکتین سے ایك جز قطع کرکے ب کے محاذی آیا ہوگا ظاہر ہے کہ اتنی دیر میں ء نے ب سے کم قطع کیا ہوگا تو جز منقسم ہوگیا۔
اقول:یہ سب ملمع ہے اولًا ر کا خط ء ہ سے اتصال کہ اس کی حرکت سے حرکت عرضیہ کرے محال کہ اتصال جزئین ممکن نہیں۔
ثانیًا:ا ب، ح سب اجزائے متفرقہ ہیں ا ور ان میں امتداد فاصل تو جتنی دیر میں ر مجموع حرکتین سے ب کے محاذی ہوگا اتنی دیر میں ء اس نصف امتداد کو طے کرے گا جو ا و ب میں ہے نہ کہ نصف جز کو۔
شبہ ۸:وجوہ تلازم سریعہ وبطیہئ سے ایك اور وجہ کو حکمۃ العین میں مستقل شبہ قرار دیا اس کا ذکر بھی کردیں کہ کوئی متروك نہ سمجھے۔
اقول:اس کا ایضاح یہ کہ ایك لکڑی زمین میں نصب کرو، طلوعِ آفتاب کے وقت اس کا سایہ روئے زمین پر جانب مغرب پھیلا ہوگا جس کی مقدار دائرہ زمین کے ایك حصہ کی قدر ہوگی آفتاب جتنا بلند ہوتا جائے گا سایہ سمٹتا آئے گا یہاں تك کہ جب آفتاب آسمان کا ربع دائرہ قطع
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
شاہد ہے کہ متحرك کے لیے اس نحو حرکت میں کوئی استحالہ نہیں تو وہ ناشی نہ ہوا مگر فرض جو ہر فرد فاہم با ایں ہمہ جب ان سب کے تسلیم پر ہمارے پاس جواب شافی موجود ہے تو ان کے انکار کی کیا حاجت وہ بھی بشکل مدعی کہ بارِ ثبوت ہم پر ہو، ۱۲ منہ غفرلہ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع