دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 27 | فتاوی رضویہ جلد ۲۷

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۲۷

رہے۔بہرحال محال ہے کہ کہیں مل سکیں کہ اتصال جزئین ممکن نہیں جیسے دو جسم کہ ایك دوسرے کی طرف مساوی یا مختلف سیر سے چلیں یا ایك ہی چلے، بہرحال بعد تلاقی وقوف وواجب کہ تداخل محال، یہاں قبل تلافی وقوف لازم کہ اتصال محال بقائے میل موجبِ حرکت نہیں جب کہ کوئی مانع ہو اور لزوم محال سے بڑھ کر اور کیا مانع وہاں امتناع تداخل نے تلاقی پر حرکت روك دی اگرچہ میل باقی ہو یہاں استحالہ اتصال قبل تلاقی روك دے گا، اگر کہیے کہاں روکے گا، جہاں رکیں ضرور ان میں ایك امتداد موہوم فاضل ہوگا جس کی تقسیم نامتناہی ہوسکتی ہے۔تو ممکن ہے کہ ابھی اور بڑھیں، اور ہمیشہ یہی سوال رہے گا۔

اقول:یہ وہ سوال ہے جو تم پر وارد کیا گیا کہ جب مسافت کی تقسیم نامتناہی ہے تو محال ہے کہ کوئی متحرك اسے قطع کرسکے اور اس کا جواب تم یہی دیتے ہو کہ یہ انقسام بالفعل نہیں موجود بالفعل امتداد متناہی ہے کہ قطع کرسکے اور اس کا جواب تم یہی دیتے ہو کہ یہ انقسام بالفعل نہیں موجود بالفعل امتداد متناہی ہے کہ قطع ہوجائے گا وہی جواب یہاں ہے یوں نہ سمجھو تو یوں سہی، آیا کبھی وہ وقت آئے گا کہ اب ان کی حرکت موجبِ تلاقی ہو یا بوجہ لامتناہی تقسیم کبھی نہ آئے گا، برتقدیر ثانی غیر متناہی چلے جائیں گے اور کبھی نہ ملیں گے کہ کوئی جز ان کے ملتقی پر ہو، اور برتقدیر اول جہاں وہ حرکت رہے گی کہ اب ملادے وہیں رك جانا واجب ہوگا۔

شبہ۶:بارہا حرکتِ سریعہ و بطیئہ متلازم ہوتی ہیں۔(اسے بوجوہ ثابت کیا ہے ان سے تطویل کی حاجت نہیں ایك مثال آسیابس ہے)ظاہر ہے کہ چکی کا دائرہ قطبیہ(جو اس کی کیلی کے پاس ہے)چھوٹا ہے اور دائرہ طوقیہ(جو اس کے بیرونی کنارے پر رہے۔)بڑا ہے دونوں دائروں پر ایك ایك جز لیجئے یقینًا دونوں ایك ساتھ دورہ پورا کریں گے۔جز قطبی نے جتنی دیر میں یہ چھوٹا دائرہ طے کیا اتنی ہی دیر میں جز طوقی نے وہ بڑا دائرہ تو اس کی بطیہ اس کی سریعہ متلازم ہیں۔فرض کیجئے کہ دائرہ طوقیہ دائرہ قطبیہ کا دس گناہ ہے تو جتنی دیر میں جز قطبی ایك جز مسافت طے کرے گا ضرور ہے کہ جز طوقی دس جز چلے گا، تو طوقی جتنی دیر میں ایك جز قطعی کرے گا قطبی ایك جز کا دسواں حصہ چلے گا تو جز منقسم ہوگیا۔یا یوں کہیے کہ جز طوقی جتنی دیر میں ایك جز چلا اتنید یر میں قطبی بھی ایك جز چلا تو جز منقسم ہوگیا یا یوں کہیے کہ جز طوقی جتنی دیر میں ایك جز چلا اتنی دیر میں قطبی بھی ایك جز چلا تو سریعہ و بطیہ برابر ہوگئیں اور ایك جز سے زائد چلا تو بطیئہ سریعہ سے بڑھ گئی اور دونوں باطل ہیں۔لاجرم ایك جز سے کم چلے گا اور یہی انقسام ہے۔ اس شبہ نے متکلمین کو بہت پریشان کیا۔نظام تو طغرے کا قائل ہوا یعنی مثلًا ایك اور دس کی نسبت ہے جو قطبی جتنی دیر میں ایك جز متصل پر منتقل ہوا طوقی اتنی ہی دیر میں بیچ سے نو جز چھوڑ کر دوسویں جز پر ہوجائے گا تو طوقی نے ایك سے لے کر نو جز تك قطع ہی نہ کئے کہ اتنی دیر میں قطبی کے لیے جز کا کوئی حصہ ہو بلکہ


 

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن