30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہوسکنا ثابت ہے تو لا یتجزّٰی ہونا باطل۔
اقول:وہ تو باطل نہیں بلکہ ایك جز کا دو کے ملتقٰی پر ہونا ہی باطل ہےکہ اتصال جزئین محال، اس کا امکان تین وجہ سے ثابت کرتے ہیں۔
(۱)جب مسافت اجزائے لاتتجّرٰی سے مرکب ہے اور ایك عــــــہ جز اس پر حرکت کرے یعنی اس کے ایك جز سے منتقل ہو کر دوسرے جز پر آئے تو ظاہر ہے کہ دونوں جز اس حرکت کے مبدء و منتہی ہوئے اور حرکت نہ مبدء میں ہوتی ہے نہ منتہی میں بلکہ بینھما تو ضرور حرکت اس جز کے لیے اسی وقت ہوئی جب ان دونوں کے بیچ میں تھا یہی ملتقی پر ہوتا ہے۔
اقول:سب اعتراضوں سے قطع نظر مسافت کے دو جز متصل ہونا محال بلکہ ہر دو جز میں ایك امتداد موہوم فاصل ہے۔جز متحرك وقت حرکت اس امتداد میں ہوگا۔
(۲)ایك خط اجزائے زوج مثلًا چھ جز ۱ ب ج ء ہ ر سے مرکب فرض کریں خط کے اوپر ا کے محاذی ایك جزح ہے اور خط کے نیچے ر کے محاذی ایك جز ط اس شکل پر ح ا ح ب خ غ ہ ط د ا ب فرض کرو کہ ح ط کی طرف اور ط ح کی طرف مساوی چال سے چلے تو ضرور بیچ میں ایك دوسرے کی محازات میں آئیں گے یہ محاذات نہ نقطہ ح پر ہوگی جب تك ح نقطہ ح پرآئے گا۔ط نقطہ ع پر ہوگا ابھی محاذات تك نہ آیا نہ نطقہ ع پر ہوگی کہ جب ح نقطہ ء پر آئے گا ط نقطہ ح پر پہنچے گا محاذات سے گزر گیا ہوگا ضرور ج و ع کے بیچ میں ہوگی تو اس وقت ح ط دونوں ج و ع کے ملتقی پر ہوں گے۔
اقول:یہ بھی اتصال اجزاء پر مبنی اور وہ محال بلکہ ج و ء میں امتداد موہوم ہے اس کے منتصف پر یہ محاذات ہوگی۔
(۳)ایك خط اجزائے طاق مثلًا پانچ جز ۱ ب ح ء ہ سے مرکب میں خط کے اوپر دو جز ح و ط ہوں ایك ا پر دوسراہ پر اور ایك دوسرے کی طرف ایك چال سے چلیں تو ضرور جزاء و سطانی ح پر آکر ملیں گے تو ح ان دونوں کے ملتقی پر ہوا۔
اقول:یہ فرض محال ہے وہ مساوی چال سے چلیں یا مختلف سے یا ایك چلے دوسر اساکن
عــــــہ:اقول:جز کا ان اجزاء سے ملنا ہی محال ہے مگر حرکت بلا اتصال بہ تبدل محاذات بھی ہوسکتی ہے لہذا ہم نے فرض پر کلام نہ کیا ۱۲ منہ غفرلہ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع