30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ثانیًا:وَھُوَالْحلُّ:جہالت کے سر پر سینگ نہیں ہوتے شق اخیر مختار ہے، یہ خلا ذو وضع ہے اور اجزا سے ملاقی ہے اور ملاقات بالبعض ہے اور منقسم خلا ہوا نہ کہ جز، ہر دو جز کے بیچ میں خلا ایك خط موہوم ہے جس کے دونوں نقطہ طرف دونوں جز واقع فی الطرف پر منطبق ہیں اور بیچ میں امتداد خطی، تو یہ خلاوخط منقسم ہیں نہ کہ اجزاء و نقطہ۔
شبہ ۳:دوسرا رفو یوں چاہاکہ ہم اس خلا کو اجزاء سے بھریں گے تو ہم تو تلاقی اجزاء ہوجائے گی اور اگر کبھی نہ بھرسکے تو خلا کی تقسیم غیر متناہی ہوئی تو جسم کی تقسیم غیر متناہی لازم آئی۔اور یہی مطلوب ہے۔اور اگر بھر جائے اور ایك جز سے کم کی جگہ رہے تو جز منقسم(سندیلی)
اقول:اوّلا:دو۲ جزوں کا ملنا محال تو بھرنے کا قصد قصہ محال جیسے کوئی کہے کہ خط ا ب میں ہم برابر نقطے رکھیں گے، اب تین حال سے خالی نہیں، یا متناہی نقطوں سے بھرے گا یا غیر متناہی سے کہ دو حاصروں میں محصور ہوں گے یا نہ بھرے گا یعنی ایك نقطہ سے کم کی جگہ خالی رہے گی کہ موجب تقسیم نقطہ ہے اور بہر صورت تتالی نقاط لازم، اس سے یہی کہا جائے گا کہ احمق دو نقطے برابر ہوسکتے ہی نہیں نہ کہ متوالی نقطوں سے خط بھرنے کی ہوس۔
ثانیًا:خدا کی تقسیم لامتناہی ہونے سے امتداد موہوم کی تقسیم نامتناہی ہوئی نہ کہ جسم کی۔
ثالثًا:اگر نظر میں یہ تقسیم جسم ہونے سے واقع میں اس کی تقسیم ہوجائے تو کیا ایسی ہی غیر متناہی تقسیم مطلوب تھی کہ جسم کا تالف اجزائے لاتتجزی سے اور ان کے خلاؤں کے ذریعہ سے جسم کی تقسیم نامتناہی لا متناہی قسمت تو جز سے بھاگنے کو لیتے تھے جب اجزاء موجود پھر لاتناہی پر خوشی کا ہے کی۔
شبہ ۴:اجائے جسم میں جو چیز دو کے بیچ میں ہے وہ ان کو تلاقی سے مانع ہے ورنہ تداخل ہوگا حجم نہ بنے گا،اور یہ ممانعت یوں ہی ہوگی کہ ایك طرف سے ایك جز سے ملا ہو دوسری طرف سے دوسرے جز سے تو ضرور یہ طرفین ممتاز فی الوضع ہوں گی کہ ہر ایك کی طرف اشارہ جدا ہوگا جب تو ایك طرف سے اس سے دوسری سے اس سے ملنا ہوگا اور جب اس کے لیے طرفین ممتاز فی الوضع ہیں تو ضرور اس میں شے دون شے فرض کرسکتے ہیں تو انقسام ہوگیا اگرچہ وہمًا۔
اقول:یہ وہی شبہ اولٰی بعبارت اُخرٰی ہے اور جواب واضح نہ کوئی جز دوسرے سے ملا نہ دو جزوں کا مانع لقا،بلکہ تھامانع بیچ کا خلا جیسے نقطتین طرف کو امتداد خط۔
شبہ ۵:ایك جز دو۲ جزوں کے ملتقی پر ہوسکتا ہے اور جب ایسا ہوگا جزو لا یتجزٰی نہ ہوگا کہ ملتقی پر ہونے کے یہی معنی کہ اس کا ایك حصہ ایك جز پر ہے دوسرا دوسرے پر، لیکن ملتقی پر
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع