30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ثانیًا:وہم سے اگر مجرد اختراع مراد ہو تو وہ کہیں بھی بند نہیں اور اگر وہ کہ واقعیت رکھے تو ناممکن ہے جب تك واقع میں شے دون شیئ یعنی دو حصے متمائز نہ ہوں۔فکی و وہمی کا فرق انسانی علم قاصر و قدرت ناقصہ کے اعتبار سے ہے شے جب غایت صغر کو پہنچ جائے گی انسان کسی آلے سے بھی اس کا تجزیہ نہیں کرسکتا بلکہ وہ اسے محسوس ہی نہ ہوگی تجزیہ تو دوسرا درجہ ہے لیکن مولٰی عزوجل کا علم محیط اور قدرت غیر متناہی جب تك حصوں میں شے دون شیئ کا تمایز باقی ہے قطعًا مولٰی تعالٰی عزوجل ان کے جدا فرمانے پر قادر ہے تو وہ جو تمزیق فرمائے اس میں کل ممزق وہیں منتہی ہوگا جہاں واقعی میں شیئ دون شَے باقی نہ رہے اور وہ نہیں مگر جزو لایتجزی۔
موقف سوم:ابطلال دلائل ابطال:ابطالِ جز کے لیے فلاسفہ کے شبہاتِ کثیر ہیں اور بحمدہ تعالٰی سب پادر ہوا۔شُبہ ۱:کہ اُن کا نقلِ مجلس ہے اجزاء اگر باہم ملاقی نہ ہوں گے حجم حاصل نہ ہوگا تو جسم نہ بنے گا، اور ملاقی ہوں گے تو اگر ایك جز دوسرے سے بالکل ملاقی یعنی متداخل ہو جب بھی حجم نہ ہوا، سب جزء واحد کے حکم میں ہوئے اور اگر ایسا نہ ہو تو ضرو رایك حصہ ملا ہوگا اور دوسرا جدا، تو جز منقسم ہوگیا جواب با اختیار شق اول ہے۔
اقول:اور حصول حجم کی صورت ہم بتاچکے۔
شُبہ ۲:جس میں چاك اول کا رفو چاہا ہے۔اجزاء ملاقی ہوں جب تو وہی تداخل یا انقسام ہے ورنہ ان میں خلا ہوگا۔یہ خلا کوئی وضع ممتاز رکھتا ہے یعنی اس کی طرف اشارہ حسیہ اجزاء کی طرف اشارے کا غیر ہے یا نہیں برتقدیر ثانی اجزاء میں تلاقی ہوگئی برتقدیر اول یہ خلا عدم صر ف نہیں کہ ذی وضع ممتاز ہے اب ہم اسے پوچھتے ہیں یہ اجزاء سے ملاقی ہے یا نہیں، اگر نہیں تو عدم صرف ہوا اس سے حجم کیا پیدا ہوگا۔حجم تو یوں ہوتا کہ ایك جز یہاں ہے ایك وہاں، بیچ میں خلا ہے اور اگر ہاں تو بالکل ملاقی یعنی اجزاء کے ساتھ متداخل ہے جب بھی حجم نہ ہوا اور بالبعض ملاقی ہے، تو جزء منقسم ہوگیا۔(سندیلی علی الجونفوری)
اقول:اولًا:خط ا،ب اپنے دونوں نقطہ طرف ا وب سے ملا ہے یا جدا، برتقدیر ثانی یہ نقطے اس کی طرف کب ہوئے کہ طرف شیئ شے سے منفصل نہیں ہوتی، برتقدیر اول بالکل ملاقی یعنی نقطوں سے متداخل ہے تو خط کب ہوا کہ اس کو امتداد چاہیے اور اگر بالبعض ملاقی ہے تو نقطہ منقسم ہوگیا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع