30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(ا)فلاسفہ کا ادعا کہ جسم کا ترکب اجزائے لاتتجزٰی سے نہیں ہوسکتا باطل ہوا۔
(ب)ان کا کلیہ کہ ہر جسم ہیولٰی و صورت سے مرکب ہے باطل ہوا۔
(ج)وہ دلائل کہ ابطال ترکب پر لائے تھے بے کار و ضائع گئے۔کما ستعرف ان شاء اﷲ تعالٰی(جیسا کہ عنقریب تو جان لے گا اگر اﷲ تعالٰی نے چاہا۔ت)
موقف دوم:اثبات جزہم اوپر بیان کرچکے کہ ہمیں اس کی حاجت نہیں صرف امکان کافی ہے تو یہ موقف محض تبرعی ہے ولہذا ہم نے عنوان مقام میں یہ کہا کہ جز باطل نہیں یعنی اس کے بطلان پر کوئی دلیل قائم نہیں، نہ یہ کہ جز ثابت ہے کہ ابطال فلسفہ میں ہمیں اس کی حاجت نہیں، متکلمین نے یہاں بہت کچھ کلام کیا ہے۔اور وہ ہمارے نزدیك تام نہیں اگرچہ ان میں بعض کو شرح مقاصد میں قوی بتایا لہذا ہم اس سب سے اعراض کرکے اسلامی قلوب مستقیمہ کے لیے بتوفیقہ تعالٰی خود قرآنِ عظیم سے جز کا ثبوت دیں۔
فاقول:قال المولٰی سبحانہ وتعالٰی،" وَ مَزَّقْنٰہُمْ کُلَّ مُمَزَّقٍ ؕ "[1]۔(اور انہیں پوری پریشانی سے پراگندہ کردیا۔ت)تمزیق پارہ پارہ کرنا۔ہم نے انکی کوئی تمزیق باقی نہ رکھی سب بالفعل کردیں۔
ظاہر ہے کہ یہاں تمز یق موجود مراد نہیں ہوسکتی۔کہ تحصیل حاصل ناممکن۔لاجرم تمزیق ممکن مراد یعنی جہاں تك تجزیہ کا امکان تھا سب بالفعل کردیا تو ضرو ریہ تجزیہ ان اجزاء پر منتہی ہوا جن کے آگے تجزیہ ممکن نہیں ورنہ کل مزق نہ ہوتا کہ ابھی بعض تمیزیقین باقی تھیں اور ہ وہ اجزاء جن کا تجزیہ ناممکن ہو نہیں مگر اجزائے لاتجزی، تو اس عــــــہ تقدیر پر حاصل یہ ہوا کہ ان کے اجسام کے تمام اتصالات حسیہ ہر حصے اور ہر ہر حصے کے حصے باطل فرما کر ان کے اجزائے لاتجزی دور دور بکھیردیئے کہ اب کسی جز کو دوسرے سے اتصال حسی بھی نہ رہا۔اگر کہیے مراد تقسیم فکی ہے نہ وہمی یعنی خارج میں جتنے پارے ہوسکتے تھے سب کردیئے اگرچہ ہر پارہ وہم میں غیر متناہی تقسیم سے منقسم ہوسکتا ہے تو اجزائے لاتجزی لازم نہ آئے کہ وہ وہمًا بھی قابل اقسام نہیں۔
اقول:اوّلًا:تخصیص بلا دلیل باطل و ذلیل:
عــــــہ:یعنی جب کہ ترکب اجزا سے فرض کریں ورنہ اجزائے لاتتجزٰی کی طرف تحلیل تو ضرور مفاد ارشاد ہے کماسیأتی ۱۲ منہ غفرلہ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع