30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بلکہ اُس کے بطلان پر یقین کلی کیا جاتا ہے فلاسفہ اس کے ابطال پر چمك چمك کر دلائل حتی کہ بکثرت براہین ہندسیہ قائم کرتے ہیں عقلی تمسك میں بیان ہندسی سے زیادہ اور کیا ہے جس میں شك و تردد کو اصلًا جگہ ہی نہیں رہتی اور متکلمین ان دلائل سے جواب نہیں دیتے اپنے سکوت سے ان کا لاجواب ہونا بتاتے ہیں، تو گویا فریقین اس کے بطلان پر اتفاق کیے ہیں، مگر بحمدہ تعالٰی ہم واضح کردیں گے کہ اس کے رد میں فلاسفہ کی تمام حجتیں اور ہندسی برہانیں پادر ہوا ہیں، وباﷲ التوفیق یہ مقام چار موقفوں پر مشتمل ہے۔
موقف اوّل : اس مسئلہ میں ابطال رائے فلسفی اور دربارہ جز ہ ہمارا مسلک۔
اقول : وبربنا التوفیق یہاں ہمارا مسلك فریقین سے جدا ہے۔
(۱) ہمارے نزدیك جزو لایتخری باطل نہیں خلافًا للحکماء لیکن دو جزوں کا اتصال محال ہے خلافًا لظاھر ماعن جمہور المتکلمین۔ ظاہر ہے کہ اتصال غیر تداخل ہے تو وہ یونہی ممکن ہر ایك میں شیئ دو ن شیئ یعنی جدا اطراف ہوں دونوں ایك ایك طرف سے باہم ملیں اور دوسری طرف سے جدا رہیں ورنہ تداخل ہوجائے گا اور جزء میں شے دو ن شے محال تو وہ اپنی نفس ذات سے آبی ا تصال فلسفی کی تمام براہین ہندسیہ اور اکثر دیگر دلائل اس اتصال ہی کو باطل کرتی ہیں وہ خود ہمارے نزدیك نفس ملاحظہ معنی اتصال وجزو سے باطل ہے ان تطویلات کی کیا حاجت۔ امید کہ اتصال اجزاء ماننے سے ہمارے متکلمین کی مراد اتصال حسی ہو جیسا انہوں نے نفی دائرہ وغیرہ میں فرمایا ہےکہ یہ اتصال مرئی حس کی غلطی ہے ان سے مماست جز پر جو تفریعات منقول ہیں اسی پر محمول ہیں ورنہ اتصال حقیقی کا بطلان محتاج بیان نہیں۔
(۲) ہمیں یہاں پر اصل مقصود ابطال ہیولٰی ہے کہ اس کی ظلمتیں قدم عالمِ اگرچہ نوعی کے کفریات لاتی ہیں اس کی کلیت کا ابطال یہاں ہے اور ابطال بالکلیہ بعونہ تعالٰی مقام آئندہ میں تو ہم یہاں مقام منع میں ہیں۔ ہمیں ہیولٰی صورت کے سوا دوسری وجہ سے ترکب جسم کا دعوٰی کرنے کی حاجت نہیں بلکہ اس بارے میں جوکچھ کہیں گے محض ابدائے احتمال ہوگا کہ تغلیس مدعی کے لیے اسی قدر کافی۔
(۳) ربِّ عزوجل فاعل مختار ہے اس کے ارادے کے سوا عالم میں کوئی شے موثر نہیں رویت شے نہ اجتماع شرائط عادیہ سے واجب نہ ان کے انتفاء سے محال، وہ چاہے تو سب شرطیں جمع ہوں اور دن کو سامنے کا پہاڑ نظر نہ آئے اور چاہے تو بلا شرط رویت ہوجائے جیسے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع