30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تو حرکت سے قائم اور حرکت فلك سے قائم اور قائم سے قائم قائم اور یہ اتساع اس سے منزہ۔
|
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ) لایخرجہ من القوۃ الی الفعل فاوّلًا الاترٰی انہ تعالی علم للحوادث فی الازل انہا معدومۃ فی نفس الامروستوجد فی اوقاتھا فان کان العلم موجب وجود ھا بالفعل کان العلم بانہا معدومۃ فی نفس الامر علی خلاف الواقع۔ وثانیًا:انما اراداﷲ تعالٰی وجود الحوادث فی اوقاتھا ولا وجود لہا الا بارادتہ تعالٰی فیستحیل ان تکون موجودۃ فی الازل۔ وثالثًا الا ترٰی انہ تعالٰی یعلم کل محال ویعلم کل محال ویعلم ان لوکان کیف کان فتعلق علمہ تعالٰی بہ لم یخرجہ عن الاحالۃ فضلا عن العدم وما سبیل غیر المتناھی الاسبیل سائر المحالات فھو تعالٰی یعلمہ ویعلم انہ محال ان یوجد |
تعلق ہونا اسے قوت سے فعل کی طرف نہیں نکالتا،اس کے چند دلائل ہیں: (۱)کیا تو نہیں دیکھتا کہ اﷲ تعالٰی کو ازل میں حوادث کے بارے میں علم تھا کہ وہ نفس الامر میں معدوم ہیں اور عنقریب اپنے اوقات میں پائیں جائیں اگر علم کی وجہ سے ان کا وجود بالفعل ضروری ہوتا تو ان کے بارے میں یہ جاننا کہ وہ نفس الامر میں معدوم ہیں خلاف واقع ہوگا۔ (۲)اﷲ تعالٰی نے ارادہ فرمایا کہ حوادث اپنے اوقات میں پائے جائیں اور ان کا وجود تو صرف اﷲ تعالی کے ارادے سے ہوگا،اس لیے ان کا ازل میں موجود ہونا محال ہے۔ (۳)کیا تُو نہیں دیکھتا کہ اﷲ تعالٰی ہر محال کو جانتا ہے اور یہ بھی جانتا ہے کہ اگر وہ موجود ہوتا تو کیسے ہوتا۔پس اﷲ تعالٰی کا علم اس سے متعلق ہے اس کے باوجود اس تعلق نے اسے محال ہونے سے نہیں نکالا،چہ جائیکہ عدم سے نکال دیتا،غیر متناہی کا معاملہ وہی ہے جو باقی محالات کا ہے پس اﷲ تعالٰی غیر متناہی کو جانتا ہے اور یہ بھی جانتا ہے کہ اس کا واقع میں پایا جانا محال ہے۔تمام(باقی برصفحہ آئندہ) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع