30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اقول:اوّلا:صریح غلط تم تو زمانے کو عرض قائم بالفلك مانتے ہو کہ وہ مقدار حرکت ہے
|
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ) ولا یفیدشبھۃ عامۃ فضلا عن علۃ۔ وخامسًا:من العجب قولہ اذا وجدت وجدت نسب بالفعل وکیف توجد نسبۃ فی الاعیان۔ وسادسًا:کیف یجتمع غیر المتناھی فی الوجود وحصول الترتیب غیر بعید وسابعًا:کیف بتوقف علمہ تعالٰی بہا علٰی وجودھا فی الخارج لکن الفلسفی بجھلہ یجعل العلم التفصیل حادثا تعالٰی سبحنہ و تعالٰی عما یقولون علواکبیرا۔ وبالجملۃ فلاغنی فی شیئ من ھذا بل الجواب ما اقول:بتوفیق الوھاب انما یقتضی البرھان بامتناع خروج غیر المتناھی من القوۃ الی الفعل وھو حاصل ھٰھُنا قطعًا فلا معنی لتخلف البرھان وذلك ان تعلق العلم بشیئ |
ساتھ اس کا کوئی تعلق نہیں ہے،یہ علت تو کیا عام شبہہ کا بھی فائدہ نہیں دیتا۔ (۵)وہ فرماتے ہیں کہ جب جواہر اور اعراض خارج میں پائی جائیں گے تو نسبتیں بھی بالفعل پائی جائیں،یہ قول باعثِ تعجب ہے نسبتیں خارج میں کیسے پائی جائیں گی؟ (۶)غیر متناہی چیزیں وجود میں کیسے جمع ہوسکتی ہیں؟ ان میں ترتیب کا حاصل ہونا کچھ بعید نہیں ہے۔ (۷)اﷲ تعالٰی کا ان امور کو جاننا ان کے وجود فی الخارج پر کیسے موقوف ہوسکتا ہے؟ لیکن فلسفی اپنی جہالت کی بنا پر علم تفصیلی کو حادث قرار دیتا ہے اﷲ تعالٰی ان باتوں سے بہت بلند ہےجو یہ فلاسفہ کہتے ہیں۔ مختصر یہ کہ یہ جواب کچھ بھی فائدہ نہیں دیتا،جواب وہ ہے جو میں اﷲ تعالٰی کی توفیق سے دیتا ہوں،اور وہ یہ کہ برہان تطبیق کا تقاضا ہے کہ غیر متناہی کا قوت سے فعل کی طرف نکلنا محال ہو اور یہ بات اس جگہ قطعًا حاصل ہے لہذا یہ کہنا کسی طرح صحیح نہیں ہے کہ برہان نہیں پایا گیا،اور یہ اس لیے کہ کسی چیز کے ساتھ علم کا (باقی برصفحہ آئندہ) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع