30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الاعیان الثابتۃ لم تشم رائحۃ من الوجود(اعیان ثابتہ نے وجود کی بُو نہ سونگھی،ت)
|
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ) تقسیم علمہ الی اجمالی وتفصیل من بدعات الفلا سفۃ بل علمہ تعالٰی واحد بسیط متعلق بجمیع الموجودات والمعدومات والممکنات والمحالات علی اتم تفصیل لا امکان للزیادۃ علیہ فالعلم واحد والمعلومات غیر متناھیۃ فی غیر متناہ فی غیر متناہ کما بینتہ فی فی کتابی "الدولۃ المکیۃ" و تعلیقا تھا "الفیوض الملکیۃ"۔ قال السیا لکوتی بل الجواب فی تعلیقات الفارابی انہ تعالٰی یعلم الاشیاء الغیرالمتناھیۃ متناھیۃ و ذلك لان الجواھر والاعراض متناھیۃ والنسب یمکن ان نعتبرھا نحن غیر متناھیۃ امّا عندہ تعالٰی فمتناھیۃ اذیصح ان توجد تلك الجواھر والاعراض فی |
کیونکہ اﷲ تعالٰی کے علم کی تقسیم اجمالی اور تفصیلی کی طرف فلاسفہ کی بدعتوں میں سے ہے،جب کہ اﷲ تعالٰی کا علم واحد ہے بسیط ہے اور اس کا تعلق تمام موجودات،معدومات، ممکنات اور محالات سے اتنی مکمل تفصیل کے ساتھ ہے،کہ اس پر زیادتی ممکن ہی نہیں ہے،پس علم ایك ہے اور معلومات غیر متناہی در غیر متناہی جیسے کہ میں نے اپنی کتاب الدولۃ المکیۃ اور اس کے حواشی الفیوض الملکیۃ میں بیان کیا ہے۔ علامہ عبدالحکیم سیالکوٹی کہتے ہیں کہ جواب وہ ہے جو فارابی کی تعلیقات میں ہے اور وہ یہ کہ اﷲ تعالٰی غیر متناہی اشیاء کو متناہی جانتا ہے(یعنی اشیاء اگرچہ غیر متناہی ہیں لیکن اﷲ تعالٰی کے علم میں متناہی ہیں۱۲ شرف قادری)اور یہ اس لیے کہ جواہر اور اعراض متناہی ہیں ان کے درمیان نسبتیں غیر متناہی ہیں ہم یہ اعتبار کرسکتے ہیں کہ وہ غیر متناہی ہیں،لیکن اﷲ تعالٰی کے نزدیك متناہی ہیں کیونکہ یہ جواہر اور اعراض کا خارج میں پایا جانا ممکن ہے،جب یہ خارج (باقی اگلے صفحہ پر) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع