30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نہیں،بلا تشبیہ جس طرح ہمارے اذہان میں زمانے کا وجود وہمی کہ ہر گز وجود(عہ)عینی نہیں۔
|
عــــــہ:فائدۃ جلیلۃ: بھٰذا واﷲ الحمد تحل عقدۃ حارث فیھا الافہام وھو جریان برھان التطبیق فی علم اﷲ عزوجل لانہ یعلم کل متناہ وغیر متناہ علی التفصیل، اجاب الدوانی فی شرح العقائد بان علمہ تعالٰی واحد بسیط فلا تعدد فی المعلومات بحسب علمہ بل ھی ھناك متحدۃ غیر متکثرہ [1]۔امّا فی وجودھا الخارجی فالعالم حادث فلیس الموجود الامتناھیا وان لم یقف عند حد الی الابد،ھذا حاصل ما اطال بہ وردّہ عبدالحکیم بنقل الکلام الٰی علمہ تعالٰی التفصیلی۔
اقول:لا الجواب بشیئ ولا الرد علیہ فان |
عــــــہ:فائدہ جلیلہ:اﷲ تعالٰی کا شکر ہے کہ اس کے ذریعے وہ عقدہ حل ہوجائے گا جس کے بارے میں عقلیں حیران ہیں اور وہ ہے برہان تطبیق کا اﷲ تعالٰی کے علم میں جاری ہونا کیونکہ اﷲ تعالٰی ہر متناہی اور غیر متناہی کو تفصیلًا جانتا ہے۔علامہ دوانی نے شرح عقائد میں جواب دیا کہ اﷲ تعالٰی کا علم واحد اور بسیط ہے۔لہذا معلومات میں اﷲ تعالٰی کے علم کے اعتبار سے تعدد نہیں ہے بلکہ وہ معلومات متکثر نہیں بلکہ متحد ہیں،جہاں تك معلومات کے وجود خارجی کا تعلق ہے تو عالم حادث ہے،اس لیے جتنی اشیاء موجود ہیں وہ متناہی ہیں اگرچہ ہمیشہ کے لیے کسی حد پر جا کر ان کا خاتمہ نہیں ہوتا،یہ ان کی طویل گفتگو کا خلاصہ ہے۔علامہ عبدالحکیم سیالکوٹی نے اسے رد کیا ہے کہ ہم گفتگو کو علم تفصیلی کی طرف منتقل کرتے ہیں۔ اقول:(میں کہتا ہوں)نہ تو یہ جواب درست ہے اور نہ ہی اس پر رَد صحیح ہے۔ (باقی اگلے صفحہ پر) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع