30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ممتنع الاجتماع ہے،اُسی ظرف میں ہونا لازم کہ ایك ظرف میں وجود دوسرے ظرف میں عدم کا منافی نہیں بلکہ موجب ہے جب کہ وجود اُسی ظرف سے خاص ہو اور اگر وجود شے لافی الظرف ہو تو عدم کہ اس کا منافی ہے وہ بھی لافی الظرف ہوگا کہ وجود لافی ظرف عدم فی ظرف کا منافی نہیں بلکہ موجب ہے۔اب مفارقات غیر باری عزوجل مثلًا تمہارے نزدیك عقل اول جن کا وجود زمانے سے متعالی ہے ورنہ مفارق نہ ہوں مادی ہوں کہ زمانہ کہ مادہ میں حال ہے ضرور مادی ہے اُسے حرکت میں حلول سریانی ہے اور حرکت کو جرم میں تو اُسے جرم فلك میں اور مادی میں واقع نہ ہوگا۔مگر مادی اور وہ اپنی نفس ذات میں مفارق ہیں تو بالذات وقوع فی الزمان سے آبی ہیں،لاجرم ان کا وجود کسی ظرف دیگر میں ہے یا لافی ظرف،بہرحال ان کا حدوث ممکن بالذات ہے کہ ذات ممکن نہ قدم کی مقتضی نہ عدم کی،توقطعًا حدوث کی منافی نہیں،جیسے کہ اس کی مقتضی بھی نہیں یہی حدوث کا امکان ذاتی ہے اور حدوث بے سبقت عدم ممکن نہیں تو ضرور ان کے وجود پر ان کے عدم کی سبقت ممکن اور بحکم مقدمہ سابقہ یہ عدم نہ ہوگا مگر ان کی طرح لافی ظرف یا ظرف دیگر میں بہرحال زمانےمیں نہ ہوگا،تو روشن ہوا کہ جس کا وجود زمانے میں نہیں برتقدیر حدوث اس کا عدم سابق بھی زمانے میں نہ ہوگابلکہ ظرف دیگر میں یا لافی ظرف،اور زمانہ بھی ایسا ہی ہے کہ اس کا وجود زمانے میں نہیں ورنہ ظرفیۃ الشیئ لنفسہ لازم آئے تو قطعًا برتقدیر حدوث اس کا عدم سابق زمانہ میں نہ ہوگا اور زمانے سے پہلے زمانہ لازم نہ آئے گا،وباﷲ التوفیق،یہ بات وہی ہے جو اوپر گزری کہ زمانے کی محکم کمند تمہارے اوہام کی گردن میں پڑی ہے جس میں تمہاری عقول ناقصہ کے سر پھنس گئے۔تمہیں وجود کی سابقیت و مسبوقیت بے تصور زمانہ بن ہی نہیں پڑتی،حالانکہ برہان سے ثابت کہ بے زمانہ بھی ممکن،الحمدﷲ قبلیت مذکورہ بلازمانہ بھی ہونے پر یہ دو روشن دلیلیں " فَذٰنِکَ بُرْہٰنَانِ مِنۡ رَّبِّکَ "[1](یہ دو برہان ہیں تمہارے رب کی طرف سے)کے فضل سے اس فقیر پر فائز ہوئیں، والحمدﷲ رب العلمین(اور سب تعریفیں اﷲ کے لیے ہیں جو پروردگار ہے تمام جہانوں کا۔ت)ان کے بعد زیادہ بحث کی حاجت نہیں مگر کلمات علماء میں اس معضلہ سے پانچ جواب مذکور ہوئے ہم بھی بعونہ تعالٰی پانچ کی تکمیل کریں کہ ان سے مل کر تلك عشرۃ کاملۃ ہوں۔
جواب سوم،اقول:ظاہر ہے کہ جب زمانہ حادث ہوگا اس کے لیے ظرف اول ہوگی نہیں مگر آن اور زمانہ کہ امتداد ہے،اس کے بعد ہوگا تو اس آن سابق میں زمانہ نہیں،لاجرم
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع