30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وجود شے اگر کسی ظرف میں ہو تو اس کا عدم کہ وجود کا رافع یا اس سے مرفوع وبالجملہ اس کے ساتھ
|
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ) الامجنون کیف وانہ یکون التناھی علٰی ھذا موجبًا للاتناھی لان وراء کل المقدار مقدار مثلہ بل علٰی ان حدوث شیئ لیس معنا ہ الا الوجود بعد العدم بعدیۃ محیلۃ للمعیۃ و لیست عندھم غیر الزمانیۃ فمن قبل ھذا الزم قبل الزمان زمان وای مساس بھذا لتناھی المکان فلیس مقتضاہ ان بعد البعد بعد او شغلابعد فراغ حتی یلزم تقدیر شیئ ورائہ فقیاس الزمان علی المکان من البطلان ثم استدل ببراھین ابطال التسلسل۔ اقول:وھو طریق حق کما قد مناہ غیر انہا معارضۃ و نحن فی حل عقدۃ معضلۃ نفسہا کما تقدم واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم ۱۲ منہ غفرلہ۔ |
لازم ہے کیونکہ یہ ایسی بات ہے جو صرف پاگل ہی کہہ سکتا ہے،کیونکہ اس بنا پر تو متناہی ہونا غیر متناہی ہونے کو واجب کرے گا،اس لیے کہ ہر مقدار کے بعد اس جیسی مقدار رہے، بلکہ الزام کی بنا اس پر تھی کہ کسی شے کے حادث ہونے کا صرف یہ مطلب ہے کہ عدم کے بعد وجود ایسی بعدیت کے ساتھ پایا جائے کہ جو معیت کو محال قرار دے اور ایسی بعدیت فلاسفہ کے نزدیك صرف زمانی ہے،تو جو شخص اس بات کو تسلیم کرلے گا اس پر زمانے سے پہلے زمانے کا موجود ہونا لازم آئے گا اور اسے مکان کے متناہی ہونے کے ساتھ کیا تعلق ہے ؟ اس کا مقتضا یہ نہیں ہے کہ بعد کے بعد بُعد یا فراغ کے بعد شغل ہو یہاں تك کہ اس کے بعد کسی چیز کی تقدیر لازم آئے،پس زمانے کا امکان پر قیاس کرنا باطل ہے پھر صدر شیرازی نے ابطال تسلسل کے براہین سے استدلال کیا ہے۔ اقول:یہ صحیح راستہ ہے جیسے کہ ہم اس سے پہلے بیان کر چکے ہیں ہاں اتنا ہے کہ یہ معارضہ ہے اور ہم اس لایخل عقدے کو حل کرنے کے درپے ہیں جس طرح کہ اس سے پہلے گزر ا ۔ واﷲ سبحنہ وتعالٰی اعلم منہ غفرلہ(ترجمہ محمد عبدالحکیم شرف قادری) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع