30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جواب دوم،اقول:وباﷲ التوفیق(میں کہتا ہوں اﷲ تعالٰی کی توفیق کے ساتھ۔ت)
|
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ) لایستدعی مسبوقیۃ بالعدم الا ترٰی ان تناھی محدد الجہات لایستلزم تاخرہ عن امر متقدر موجود او موھوم ملاءً اوخلاءً تأخرا مکانیا کذلك تناھی الزمان لا یستلزم تاخرہ عن امتداد زمانی موھوم اوموجود تاخرًا زمانیًا وان کان الوھم یعجز من ادراك تناھیہ کما یعجزعن ادراك ان لیس وراء الفلك خلاءً ولا ملاءً [1]۔ اقول:لم یکن الزام الزمان قبل الزمان علی تقدیر حدوثہ بناء علی ان تناھی مقدار یوجب ان یکون وراء ہ مقدار من جنسہ کالمکان وراء المکان خلو تناھی الزمان لکان وراء الزمان زمان فان ھذا لایصح ان یتفوہ بہ |
اس بات کا تقاضا نہیں کرتا کہ وہ عدم سے موخر ہو کیا تم نہیں دیکھتے محدد جہات(فلك الافلاک)کے متناہی ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ کسی امر مقدر موجود یا موہوم ملا یا خلاسے موخر ہو تاخّر مکانی کے ساتھ اسی طرح زمانے کا متناہی ہونا اس بات کا تقاضا نہیں کرتا کہ وہ امتداد زمانی موہوم یا موجود سے موخر ہوتا خر زمانی کے ساتھ اگر چہ وہم اس کے متناہی ہونے کا ادراك کرنے سے عاجز ہے جیسے کہ یہ جاننے سے عاجز ہے کہ فلك الافلاك کے پار نہ خلا ہے اور نہ ملا ہے۔اقول:(میں کہتا ہوں)زمانے کے حادث ہونے کی صورت میں زمانے سے پہلے زمانہ ہونے کا لازم آنا اس بنا پر نہیں تھا کہ مقدار کے متناہی ہونے سے یہ لازم آتا ہے کہا س کے ختم ہونے کے بعد اس کی ہم جنس مقدار ہو جیسے مکانکے بعد مکان ہونا،بس اگر زمانہ متناہی ہو تو زمانے کی انتہا کے بعدزمانے کا ہونا (باقی برصفحہ آئندہ) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع