30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عدم منقطع زمانہ میں نہ تھا۔
|
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ) محتاجۃ الیہ فی غیرہ یجعل لکل منھما ماھیتین وھو کما ترٰی۔ اقول:الزمان ماخوذ فی القدیم سلبًا ای مالیس قبلہ زمان وفی الحادث ایجابًا ای ماکان قبلہ زمان وھذا الزمان الماخوذ سواء اعتبرقدیمًا اوحادثًا او مطلقًا لا یلزم للزمان زمان ولا تعدد ماھیۃ شیئ من القدیم والحادث فالزمان قدیم عندھم لانہ لیس قبلہ زمان لاقدیم ولا حادث والزمان الحادث حادث لان قبلہ زمانا قدیمًا ولا ن زمانا حادثًا ایضا لان قبل کل من الزمان الحادث زمان حادث عندھم کما تقدم۔ (۶)الشیرازی المعروف بصدرا تبعًا لا ستاذہ الباقر اٰمن بحدوث العالم والزمان فحاول ردالمعظلۃ بان تناھی مقدار |
میں اس کی طرف محتاج ہے،اس سے یہ لازم آتا ہے کہ حدوث و قدوم کی دو دو ماہیتیں ہوں اور یہ ظاہر البطلان ہے۔ اقول:(میں کہتا ہوں کہ)قدم میں زمانہ سلبًا ماخوذ ہے یعنی وہ چیز جس سے پہلے زمانہ نہیں ہے اور حادث میں ایجابًا معتبر ہے یعنی وہ چیز جس سے پہلے زمانہ ہے اور یہ زمانہ جو ماخوذ ہے اسے قدیم مانا جائے یا حادث یا مطلقًا اعتبار کیا جائے زمانے کے لیے زمانہ لازم نہیں آتا اور نہ ہی حدوث و قدم میں سے کسی کی ماہیت کا تعدد لازم آتا ہے زمانہ فلاسفہ کے نزدیك قدیم ہے کیونکہ اس سے پہلے کوئی زمانہ نہیں ہے نہ قدیم ا ورنہ حادث،اور زمانہ جو حادث ہے وہ حادث ہے کیونکہ اس سے پہلے قدیم زمانہ ہے،بلکہ اس سے پہلے زمانہ حادث بھی ہے کیونکہ ان کے نزدیك ہر زمانہ حادث سے پہلے زمانہ حادث ہے جیسے کہ ا سے پہلے گزرا گیا ہے۔ (۶)صدر شیرازی اپنے استاد میر باقر داماد کی پیروی میں عالم اور زمانے کے حدوث پر ایمان رکھتا ہے اس لیے پیچیدہ اعتراض کا جواب یوں دیتا ہے کہ مقدار کا متناہی ہونا (باقی برصفحہ آئندہ) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع