30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تو یہ سب اس کے لیے ممکن بالذات ہیں اب عدمِ زمانہ قطعًا ممکن ہے ورنہ زمانہ واجب بالذات ہو،
|
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ) ولو سلم فالحادث من حیث الحدوث ایضا کذلك اذ لا معنی لہ سوی مایکون وجودہ مسبوقا بالعدم ولو سلمہ فالمقصود منع انحصار السبق فی الاقسام الخمسۃ مستندًا الی السبق فیما بین زمانہ اجزاء الزمان فانہ لیس زمانیا بمعنی ان یوجد المتقدم فی زمان لایوجد فیہ المتاخرولا یضرنا تسمیتہ زمانیًا بمعنی اخر[1] وشرح مقاصد و سلك خواجہ زادھا مسلکًا اخر فقال اجزاء الزمان ذکر سندا للمنع فلا یضردرجہ فی السبق الزمانی لان اندفاع السند لایستلزمہ اندفاع المنع [2]۔اقول اوّلا:کل ذلك لا ینفع ما لم یدفع ان القبلیۃ المحیلۃ للمعیۃ لاتکون الا زمانیۃ ودفعہ عند العقول المحبوسۃ فی سجن الزمان غیر یسیر فان امتناع الاجتماع انما یتاتی بامتداد |
ہیں اور اگر تسلیم کرلیا جائے تو احادث بھی اسی طرح ہے کیونکہ حادث کا یہی معنی ہے کہ جس کا وجود عدم کے بعد ہو، اور اگر یہ بھی تسلیم کرلیا جائے تو ہم نہیں مانتے کہ تقدم پانچ قسموں میں منحصر ہے اور اس منع کی سند یہ ہے کہ زمانے کے اجزا میں تقدم اور تاخر پایا جاتا ہے حالانکہ یہ تقدم اس معنی کے اعتبار سے زمانی نہیں ہیں کہ مقدم ایسے زمانے میں ہایا جائے جس میں مؤخر نہ پایا جائے اس تقدم کو اگر کسی دوسرے معنی کے اعتبار سے زمانی کہا جائے تو وہ ہمیں نقصان نہیں دیتا۔(شرح مقاصد)خواجہ زادہ نے ایك دوسرا راستہ اختیار کیا ہے انہوں نے کہا کہ اجزاء زمان کا ذکر منع کی سند کے طور پر کیا گیا ہے لہذا اسے اگر تقدم زمانی میں داخل مان لیا جائے تو یہ نقصان دہ نہیں ہے کیونکہ سند کے رَد ہونے سے منع کا رد ہونا لازم نہیں آتا۔اقول:(میں کہتا ہوں کہ)(۱)یہ سب گفتگو اس وقت تك فائدہ نہیں دے گی جب تك اس بات کو رد نہ کیا جائے کہ وہ قبلیت جو معیت کو محال قرار دیتی ہے وہ صرف زمانی ہی ہوگی اور زمانے کے قید خانے میں مقید عقلوں کے لیے اس کا رد کرنا آسان نہیں ہے،(باقی برصفحہ آئندہ) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع