30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
انقطاع استمرار،کلام اس میں نہیں بلکہ نفس ذات ممکن میں،وہ ان میں کسی کی نہ مقتضی نہ منافی،
|
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ) تبائن بالقطع ذاتا تقوم بنفسہا فثبت ان الحصول بالشبح لا بعین۔ (۴)لیس تقدم عدم الزمان علٰی وجودہ بالزمان بل بتقدم اجزاء الزمان بعضا علی بعض [1]۔(مقاصد و شرحھا وخواجہ زادہ وتجرید)اعنی التقدم بالذات لا بامر زائد علیہا السید)وھو قسم سادس للتقدم [2] (تجرید وشرحہ فی مباحث السبق)ولا نسلم ان التقدم والتاخر داخلان فی مفہوم اجزاء الزمان و انما جاء ھذا فی الامس والغدلاخذ الزمان مع التقدم المخصوص و التاخر،اما نفس اجزائہ فلا بل غایتہ لزوم التقدم والتاخر فیھا لکونھا عبارۃ عن اتصال غیر قار |
اس ذات کے مبائن ہے جو قائم بنفسہا ہے،لہذا ثابت ہوا کہ شے کی ذات ذہن میں حاصل نہیں ہوتی بلکہ اس کا شیج (عکس)حاصل ہوتا ہے۔زمانے کے عدم کا اس کے وجود پر مقدم ہونا بالزمان نہیں ہے بلکہ اس طرح ہے جیسے زمانے کے بعض اجزاء بعض پر مقدم ہیں(مقاصد،اس کی شرح خواجہ زادہ اور تجرید)یعنی تقدم بالذات ہے ایسے امر کی وجہ سے نہیں جو ذات سے زائد ہے اور یہ تقدم کی چھٹی قسم ہے(تجرید اور اس کی شرح تقدم کی مباحث میں)اور ہم تسلیم نہیں کرتے کہ تقدم اور تاخر اجزاء زمان کے مفہوم میں داخل ہے، یہ بات امسِ(گذشتہ کل)اور غد(آئندہ کل)میں اس لیے آئی ہے کہ زمانے کو تقدم مخصوص اور تاخر کے ساتھ لیا گیا ہے،جہاں تك زمانے کے نفس اجزاء کا تعلق ہے تو ان میں تقدم و تأخر ماخوذ نہیں ہے زیادہ سے زیادہ لزوم تقدم و تاخر ہے کیونکہ اجزاء زمانہ اتصالِ غیر قار سے عبارت (باقی برصفحہ آئندہ) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع