30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
یہ چار حدیثیں ہیں ان میں سے کون صحیح ہے اور کون موضوع ؟ زید کہتا ہے کہ حدیث اول ما خلق الله نوری بالمعنی صحیح ہے۔اگرچہ اس کے الفاظ کتابوں میں مذکور نہیں۔اب علماء سے سوال یہ ہے کہ جس حدیث کے الفاظ کتب احادیث میں مذکور نہیں اس کو موضوع کہیں گے یا نہیں؟ اور اس کے مرادف کون حدیث ہے جس کے اعتبار سے کہا جائے کہ یہ حدیث بالمعنٰی صحیح ہے اور حدیث کے موضوع ہونے کے لیے کیا شرط ہے،الفاظ اور معنی دونوں یا صرف الفاظ معنی نہیں؟ جواب مفصل فرمائیے مع حوالہ کتب بینوا توجروا۔
الجواب:
(۱)روایت حدیث کے دونوں طریقے ہیں۔روایت باللفظ و روایت بالمعنٰی،خود حضور اقدس صلی الله علیہ وآلہ وسلم نے تحدیث بالمعنی کی اجازت فرمائی ہے ' قرآن عظیم کے نظم کریم و حکم عظیم دونوں کے ساتھ تعبّد ہے اس میں نقل بالمعنی جائز نہیں حدیث کے حکم کے ساتھ تعبّد ہے جو الفاظِ کریمہ جو امع الکلم سے ارشاد ہوئے ہیں وہ بعینہا منقول ہیں اور باقی میں لفظ پر اقتصار موجب ضیق و عسر تھا۔اور الله عزوجل فرماتا ہے:
|
" مَا جَعَلَ عَلَیۡکُمْ فِی الدِّیۡنِ مِنْ حَرَجٍ ؕ "[1]۔ |
تم پر دین میں کچھ تنگی نہ رکھی۔ |
اور وہ یقینًا حدیث ہے اُسے یہ کہنا کہ صحابہ نے اس پر حدیث کا حکم دے دیا ہی ایك بہت براپہلو رکھتا ہے،بادشاہ فرمائے زید سے کہو کہ ابھی آئے اس پر حکم پہنچانے والا زید سے جا کر کہے کہ ظل سبحانی نے فرمایا ہے۔فورًا حاضر ہو،تو بے شك اس نے بادشاہ ہی کا حکم پہنچایا اور بادشاہ ہی کی بات نقل کی۔
(۲)عبدالرزاق نے اپنی مصنف میں جابر بن عبدالله انصاری رضی الله تعالٰی عنہما سے روایت کی رسول الله صلی الله علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے۔
|
یاجابران الله تعالٰی قد خلق قبل الاشیاء نور نبیك من نورہ[2] |
اے جابر ! بے شك الله تعالٰی نے تمام عالم سے پہلے تیرے نبی کے نور کو اپنے نور سے پیدا کیا۔ |
یہ اس معنٰی میں نص صریح ہے اور قلم و عقل کے بارے میں بھی احادیث ذکر کی جاتی ہیں جن میں سے احادیث عقل غایت درجہ ضعف میں ہیں۔حدیث کے جب معنی حضور اقدس صلی الله علیہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع