30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اگر بشرطِ وجود لو تو اس کا عدم محال ہوگا اور بشرطِ عدم تو وجود یونہی بشرطِ استمرار انقطاع اور بشرطِ
|
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ) لم یکن موھو ما فیثبت انہ غیر موھوم بل موجود فی الاعیان،فان قلت المتکلمون ینکرون الوجود الذھنی۔ اقول:(جواب)مرجعہ عند التحقیق الٰی انکار حصول الاعیان بانفسھا فی الازھان والا فہو مردود بالبرھان کما بینہ فی شرح المقاصد و مصادم البداھۃ الوجد ان کما یعرفہ کل فاھم و قاصد،امّا ھذا الذی ذکر نا فحق بلا مریۃ ویلزم القائل بحصولھا بانفسھا عرضیۃ الجوھر لقیامہ بالذھن واعتذار ابن سینا ان الجوھر مامن شانہ القیام بنفسہ اذا وجد فی الاعیان بھت بحت فالتجھر لایتبدل بتبدل الظرف والا تبدلت الذات، و بالجملۃ ذات لا قیام لھا الا بغیرھا |
اور اگر تو ہم سے پہلے موجود ہوا تو موہوم نہیں ہوگا،دونوں طرفین ظاہر ہیں اور متوسط کا وجود ذہنی میں جاری ہونا اسی طرح مشکل ہے جس طرح وجود خارجی میں مشکل ہے،نتیجہ یہ ہوگا کہ اگر وہ ہو موم ہوا تو موہوم نہیں ہوگا بلکہ خارج میں موہود ہوگا۔سوال: متکلمین تو وجود ذہنی کا انکار کرتے ہیں؟جواب:تحقیق یہ ہے کہ وہ موجودات خارجیہ کے بذواتہا ذہنوں میں حاصل ہونے کا انکار کرتے ہیں ورنہ ان کا انکار دلیل سے باطل ہے جس طرح علامہ نے شرح مقاصد میں بیان کیا اور یہ بداہۃً وجدان کے مخالف ہے جیسے کہ ہر سمجھنے اور قصد کرنے والا جانتا ہے لیکن وہ مطلب جو ہم نے بیان کیا ہے وہ حق ہے اور جو یہ کہتا ہے کہ ا شیاء خود ذہن میں حاصل ہوجاتی ہیں اس پر جو ہر کا عرض ہونا لازم آتا ہے کیونکہ جو ہر ذہن کے ساتھ قائم ہوجائے گا۔ابن سینا کا یہ عذر پیش کرنا کہ جو ہر وہ موجود ہے کہ جب وہ خارج میں پایا جائے تو قائم بنفسہ ہوگا یہ محض سینہ زوری ہے،جو ہر ہونا ایسی چیز نہیں جو ظرف کے بدلنے سے بدل جائے ورنہ ذات بدیل ہوجائے گی،خلاصہ یہ کہ وہ ذات جو صرف غیر کے ساتھ قائم ہے قطعی طور پر (باقی برصفحہ آئندہ) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع