30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جواب اوّل اقول:وباﷲ التوفیق(میں اﷲ تعالٰی کی توفیق سے کہتا ہوں ت)ممکن کو
|
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ) البرھان فلا محید عن وجودہ فی الاذھان،فاذا لم تجز مسبوقیتہ بالعدم وجب کونہ فی الذھن من الازل فیلزم قدمہ و قدم الذھن قال فی المقاصد وشرحھا فان ثبت وجود الزمان بمعنی مقدار الحرکۃ لم یمتنع سبق العدم علیہ باعتبار ھذا الامر الوھمی کما فی سائر الحوادث [1]۔ اقول:نعم ولکن امتنع علٰی ھذا الوھمی سبق العدم کما علمت،ولیس وھمیا بمعنی المخترع بل یدفع بہ کونہ موھوما اذلوکان موھومًا لم یکن قبل التوھم ولولم یکن قبل التوھم لکان قبل التوھم ولو کان قبل التوھم لم یکن موھومًا الطرفان ظاھران والوسط لجریان المعضلۃ فی الوجود الذھنی کجریا نھا فی العینی فینتج ان لوکان موھوما |
کا ردوبدل کرتا ہوں،اس کے علاوہ دوسری آیات بھی ہیں اور جب زمانہ خارج میں موجود نہیں ہے جیسے کہ دلیل سے ثابت ہوتا ہے تو ماننا پڑے گا کہ وہ اذہان میں موجود ہے اور جب عدم اس سے مقدم بتقدم زمانی نہیں ہوسکتا تو ماننا پڑے گا کہ وہ ازل سے ذہن میں تھا۔اس طرح نہ صرف زمانے کا قدیم ہونا لازم آئے گا بلکہ ذہن کا قدیم ہونا بھی لازم آئے گا مقاصد اور اس کی شرح میں ہے زمانہ جو مقدار حرکت ہے اگر اس کا وجود ثابت ہوجائے تو تمام حوادث کی طرح اس امر وہمی کے اعتبار سے عدم کا اس سے پہلے ہونا محال نہیں ہوگا۔اقول: (میں کہتا ہوں)ٹھیك ہے لیکن عدم کا اس وہمی پر مقدم ہونا محال ہے جیسے کہ تم جان چکے ہو،زمانے کے وہمی ہونے کا یہ مطلب نہیں ہےکہ وہ اختراعی ہے،بلکہ دلیل سے اس کے وہمی اختراعی ہونے کا رد کیا جاسکتا ہے اور وہ یوں کہ اگر زمانہ وہمی امر ہو تو تو ہم سے پہلے نہیں ہوگا اور اگر توہم سے پہلے موجود نہیں ہوگا،تو وہ تو ہم سے پہلے موجود ہوگا۔ (باقی برصفحہ آئندہ) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع