30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اس کے رسول سے مدد مانگتا ہوں،اﷲ تعالٰی آپ پر اور آپ کے تمام متعلقین پر درود سلام نازل فرمائے۔
|
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ) (۳)التحقیق ان الزمان وھمی ولیس امرًا موجودًا من جملۃ العلم یتصف بالقدم اوالحدوث[1] (مقاصد و شرحہا)وتبعہ المتعاصران القوشجی وخواجہ زادہ ولفظہ لیس امرا موجودا لیلزم من انتفاء حدوثہ قدمہ [2]اھ۔ اقول:اولًا قداجمعا علٰی حدوثہ ففیہ انکار لا صل والدعوٰی وثانیًا لا شك فی واقعیۃ الزمان وقد نطق بہ نصوص القرآن " وَ اللہُ یُقَدِّرُ الَّیۡلَ وَ النَّہَارَ ؕ "[3] وما التقدیر الا للامتداد" یُوۡلِجُ الَّیۡلَ فِی النَّہَارِ وَ یُوۡلِجُ النَّہَارَ فِی الَّیۡلِ "[4] ای یربی تارۃ مقدار ھذا علٰی ذلك واخری |
(۳)تحقیق یہ ہےکہ زمانہ ایك موہوم امر ہے،امر موجود نہیں ہے بلکہ یہ از قبیل معلومات ہے قدم اور حدوث کے ساتھ متصف ہوتا ہے(مقاصد و شرح مقاصد)صاحبِ مقاصد کی پیروی ان کے دو معاصروں علامہ قوشجی اور خواجہ زادہ نے کی ہے،ان کی عبارت کا ترجمہ یہ ہے،زمانہ ا مر موجود نہیں ہے تاکہ اس کے حادث نہ ہونے سے اس کا قدیم ہونا لازم آئے۔ اقول:(۱)ہمارا اس بات پر اجماع ہے کہ زمانہ حادث ہے اس جواب میں تو اصل دعوٰی ہی کا انکار کردیا گیا ہے۔(۲)زمانے کے امر واقعی ہونے میں کوئی شك نہیں ہے نصوصِ قرآن اس کی گواہی دے رہی ہیں وَ اللہُ یُقَدِّرُ الَّیۡلَ وَ النَّہَارَ ؕ اﷲ دن اور رات کا اندازہ مقرر فرماتا ہے اور اندازہ امتداد ہی کا مقرر کیا جاتا ہے۔ " یُوۡلِجُ الَّیۡلَ فِی النَّہَارِ وَ یُوۡلِجُ النَّہَارَ فِی الَّیۡلِ"رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے (باقی برصفحہ آئندہ) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع