30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(جیسا کہ ہم نے ان کے حواشی میں بیان کیا۔ت)فیض قدیر عزجلالہ،سے جو کچھ قلبِ فقیر پر فائض ہو حاضر کرے۔
|
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ) مقدم علی العالم والزمان انہ کان ولا عالم ثم کان ٭ومعہ عالم فلم یتضمن اللفظ الاوجود ذات وعدم ذات ثم وجود ذاتین ولیس من ضرورۃ ذلك تقدیر شیئ ثالث وان |
عالم اور زمانے سے مقدم ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اﷲ تعالٰی موجود تھا اور عالم موجود نہ تھا پھر اﷲ تعالٰی موجود تھا اور اس کے ساتھ عالم بھی موجود تھا،تو ان الفاظ کا مطلب صرف اتنا ہے پہلے ایك ذات موجود تھی اور دوسری ذات موجود نہ تھی،پھر دو ذاتیں موجود تھیں،اس سے یہ لازم(باقی برصفحہ آئندہ) |
|
٭ اقول:رحمہ اﷲ الا مام و ایانا بہ حق العبارۃ ان یقال ثم کان وھو مع العالم فھو تعالٰی مع کل شیئ وتعالٰی ان یکون معہ شیئ معیۃ متعالیۃ عن المعیۃ المتعارفۃ المشترکۃ فی المعنی المتساویۃ فی الاثنین " وَ ہُوَ مَعَکُمْ اَیۡنَ مَا کُنۡتُمْ ؕ "[1]ولم یرد انتم معہ بل الاولٰی فی التعبیرثم کان العالم واﷲ معہ کیلا یوھم کونہ ثانیا ﷲ عزوجل ۱۲ منہ غفرلہ۔ |
٭اقول:(میں کہتا ہوں)اﷲ تعالٰی امام غزالی پر رحم فرمائے اور ان کے وسیلے سے ہم پر رحم فرمائے عبارت اس طرح ہونی چاہیے تھی ثم کان وھو مع العالم پھر اﷲ تعالٰی عالم کے ساتھ موجود تھا پس اﷲ تعالی ہر شے کے ساتھ ہے اور وہ بلند ہے اس سے کہ کوئی شے اس کے ساتھ ہو،اس کی معیت معروف معیت سے بلند ہے جس مین دو چیزیں کسی معنی میں شریك ہوتی ہیں اور ان میں مساوات ہوتی ہے۔ارشاد ربانی ہے وھو معکم اینما کنتم وہ تمہارے ساتھ ہے تم جہاں بھی ہو،اور یہ نہیں فرمایا کہ انتم معہ تم اس کے ساتھ ہو۔اس لیے بہتر تعبیر یہ ہے۔پھر عالم موجود تھا اور اﷲ تعالٰی اس کے ساتھ تھا،تاکہ عالم کا اﷲ تعالٰی کے لیے ثانی ہونا لازم نہ آئے ۱۲ منہ غفرلہ(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع