30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مقدار نہیں ہوسکتا۔
ثامنًا:تحدیدِ جہات کا قضیہ بھی طے ہوچکا۔تاسعًا:غلط ہے کہ محدد کا استدارہ واجب بلکہ ہم ثابت کرچکے کہ باطل۔عاشرًا:یہ بھی غلط کہ جہاں طبع نہیں قسر نہیں۔
حادی عشر:ہر ایك کی مسافت اس کے لائق ہے حرکت کمیہ کہ ذبول یا تکاثف سے ہو اس کی مسافت جسم تعلیمی ہے کہ ہر آن مقدار گھٹے گی اور وہ ضرور اتصال رکھتا ہے اس کے ذریعہ سے کمیہ کو بحثیت کمیہ ہونے کے اتصال عارض ہوگا اگر چہ نمو وتخلل میں بحیثیت اینیہ ہوتا۔
ثانی عشر:تم تو آن سیال کو راسم زمانہ کہتے ہو اتصال مسافی کیسا؟
ثالث عشر:کیوں نہیں جائز کہ مستدیرہ دائمہ ارادیہ کسی دائرہ وغیرہ خط منحنی واحد پر کسی کی حرکت ہو۔
رابع عشر:سب جانے دو وہ مستدیرہ دائمہ ارادیہ حرکت فلك ہی ہونا کیا ضرور،کیوں نہ حرکت شمس ہو۔
خامس عشرتا سابع عشر:آگے وہی شعریات گائے کہ یہ اظہر المقادیر ہے تو وہ اظہر الحرکات واسرع الحرکات ہونا چاہیے اور اس پر وہی سابق کے ۷ و ۱۰ و ۱۱ وارد۔
ثامن عشر:شطرنج میں بغلہ اور بڑھایا کہ جس جسم کی یہ حرکت ہے چاہیے کہ وہ سب اجسام کو محیط ہو یہ کیوں،یہ اس لیے کہ شیخ چلی یونہی کہہ گئے ہیں یہ ہیں اس کی وہ خرافات مضحکہ جن کو کہتا ہے حکمت حقہ حقیقیہ یقینیہ واجب الاتباع ولاحول ولا قوۃ الا باﷲ العلی العظیم(نہ گناہ سے بچنے کی طاقت ہے اور نہ نیکی کرنے کی قوت مگر بلندی و عظمت والے خدا کی توفیق سے۔ت)
مقام سیم:
زمانہ حادث ہے:
حجت ۱:زمانے کو مقدارِ حرکت کہتے ہو اور ابھی واضح ہوچکا کہ حرکت کا قدم محال۔
حجت ۲:روشن ہوچکا کہ وہ موہوم ہے خارج میں اس کا وجود درکنار سب سے ضعیف تر انحائے وجود خارجی یعنی وجود منشا تك اس کے لیے نہیں پھر سب سے اعلٰی یعنی وجود ازلی کیسے ہوسکتاہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع