30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ماننے سے اس کی مقدار کا عدم بالبداہت لازم آتا ہے،(کوئی عاقل گمان نہیں کرسکتا کہ جسم تو معدوم ہے مگر اس کا طول و عرض باقی ہے)زمانہ اگر مقدار حرکت فلکیہ ہوتا تو اس کے عدم سے اس کا عدم بدیہی ہوتا اور یہ تصور کرنا کہ فلك نہیں اور زمانہ ہے ایسا تصور ہوتا کہ حرکت نہیں اور ہے حالانکہ ہر گز ایسا عــــــہ نہیں بلکہ اس کے خلاف پر یہ یقین ہوتا ہے کہ اگر چہ نہ فلك ہوتا نہ اس کی حرکت،جب بھی ایك امتداد جس سے تقدم و تاخر و ماضی و مستقبل ہوں ضرور ہوتا،اور اگر تصور کریں کہ فلك نہ تھا پھر ہوا یا ساکن تھا پر متحرك ہوا یا آئندہ فلك یا اس کی حرکت نہ رہے جب بھی وہ امتداد تھا اور رہے گا(کہ تھا اور نہ تھا اور پھر آئندہ سب اسی سے متعلق ہیں)فلسفی کا زعم یہ کہ یہ بداہت بداہت وہم سے جیسے وہم کا یہ زعم کہ فلك الافلك کے باہر غیر متناہی فضا ہے محض تحکم ہے یہ امتداد(جس پر تھا اور ہے اور ہوگا کی بنا ہے جسے ہر بچہ اور ہر ابلہ جانتا ہے)اس پر یقین دونوں حالتوں میں یکساں ہے خواہ حرکتِ فلك کہ موجود مانیں یا معدوم،اگر یہ حکم عقل کا ہے تو دونوں حالتوں میں اور وہم کا ہے تو دونوں میں یہ تفرقہ کہ حرکتِ فلك ماننے کی حالت میں تو یہ حکم حکمِ عقل ہے اور نہ ماننے کی حالت میں حکمِ وہم ہے محتاج برہان ہے حرکتِ فلك نہ ہونے کی حالت میں اگر اذہان اسے قبول کرسکتے ہیں کہ وہ امر واضح جس پر تھا اور ہے اور ہوگا کہ بنا ہے)نہ ہوگا تو حرکتِ فلك ہونے کی حالت میں اسے کیوں نہ قبول کرسکیں گے(لیکن وہ دونوں حالتوں کو اس کے قبول و انکار میں یکساں پاتے ہیں تو معلوم ہوا کہ یہ امر واضح کوئی جدا گانہ شیئ ہے جس کے ماننے کو فلك و حرکت فلك سے کوئی تعلق نہیں(شرح مقاصد بتلخیص و ترتیب و ایضاح بزیادۃ الاہلۃ منا)
اقول:کلام بہت چمیلا ہے مگر یہاں مفید نہیں وصف شیئ اگر اسی وصف سے کہ فلاں شی کا وصف ہے مشہور و معلوم ہو تو بے شك رفع شے سے اس کا رفع بدیہی ہوگا اور اگر وہ فی نفسہ معلوم و متیقن اور اس کا وصف شے ہونا معلوم و مسلّم نہ ہوا اگرچہ وہ واقع میں وصف
عــــــہ:علامہ نے یہاں یہ زائد کیا کہ لہذا آج تك کسی عاقل نے یہ زعم نہ کیا کہ حرکت فلك کا ازلی بدی ہونا بدیہی ہے۔
اقول:عدمِ حرکت سے عدم زمانہ کی بداہت اسے مستلزم نہیں کہ حرکت فلك کی سرمدیت بدیہی ہو یہ جب ہوتا کہ زمانہ کی سرمدیت بدیہی ہوتی ۱۲ منہ غفرلہ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع