30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
انہوں نے اپنے معبود کو زمانی مکانی جہت میں مستقر مان کر خاصہ ایك جسم بنادیا،لاحول ولا قوۃ الا باﷲ العلی العظیم(نہ گناہ سے بچنے کی طاقت ہے اور نہ نیکی کرنے کی قوت ہے مگر بلندی و عظمت والے خدا کی توفیق سے(ت)
مقام بست وہشتم
زمانہ موجود ہو خواہ موہوم کسی حرکت کی مقدار نہیں ہوسکتا۔
اقول:ظاہر کہ زمانہ حرکتِ توسطیہ کی مقدار ہونا ناممکن کہ وہ متجزی ہی نہیں،یہ امتداد وہ متجدد نہیں یہ غیر قار تو ضرور اگر ہوگا تو حرکت قطعیہ کی مقدار ہوگا تو ۱وجود زمانہ وجود حرکت قطعیہ پر موقوف کہ معروض کو عارض پر تقدم بالذات،اور ۲حرکت قطعیہ کا نہ صرف تشخص بلکہ نفس ماہیۃ انتقال پر موقوف کہ یہ اس کی ایك نوع ہے تو اسے اس پر تقدم بالذات،۳اور انتقال بداہۃً تقدم منتقل عنہ پر موقوف،اگر منتقل عنہ پہلے نہ تھا انتقال کس سے ہوا،اور پر ظاہر کہ یہاں سابق و لاحق جمع نہ ہوسکتے ورنہ انتقال انتقال نہ ہوا اور تمہاری تصریحوں سے وہ تقدم جس میں قبل وبعد جمع نہ ہو سکیں نہیں ہوتا،مگر زمانی ا ور ۴بلاشبہہ تقدم زمانی وجود زمانہ پر موقوف تو وجود زمانہ وجود زمانہ پر کئی درجے مقدم اس سے زائد کیا محال درکار۔
الحمدﷲ ہماری اس تقریر سے دفع دور کا وہ حیلہ جو افق المبین و قبسات باقر وغیرہما میں کیا گیا دفع و دور ہوگیا،دوریوں قائم کیا جاتا کہ زمانہ کی مقدار حرکت ہے،حرکت پر موقوف اور حرکت کا وجود ممکن نہیں مگر سرعت و بطوء کی ایك حد معین پر اور سرعت و بطو بے تقدر زمانہ ناممکن،تو حرکت زمانہ پر موقوف،اور اس کا جواب یہ دیا تھا کہ زمانہ ماہیت حرکت پر موقوف ہے اور ماہیت میں سرعت و بطوء کچھ داخل نہیں،یہ حرکت شخصیہ کو درکار تو تشخص حرکت زمانی پر موقوف ہوا اور دور نہیں جیسے مقدار جسم جسم پر موقوف اور جسم اپنے تشخص میں مقدار کا محتاج،ظاہر ہے کہ ہماری تقریر سے اسے کچھ مس نہیں،ہم نے خود ماہیتِ حرکت کا زمانہ پر توقف ثابت کیا ہے،مباحث یہاں اور بھی ہیں جن کے ایراد سے اطالت کی حاجت نہیں۔
مقام بست و نہم
زمانہ کا مقدار حرکت فلکیہ ہونا تو کسی طرح ثابت نہیں بلکہ نہ ہوناثابت ہے،شَے کو معدوم
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع