30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اختراع،اور یہ عقلًا باطل اور نقلًا ابتداع۔
اقول:ہاں متشدق اور اس کے متبوعوں کے طور پر ایسا ہی ہے کہ وہ اسے موجود خارجی مانتے ہیں حالانکہ خارج میں نہ وہ نہ منشاء ا ور ایسی شیئ کو بحکم وہم موجود فی الخارج سمجھنا ہی انیاب اغوال کا اختراع ہے لیکن موجود ذہنی کو موجود ذہنی جاننا اختراع نہیں واقعیت ہے جیسے معقولات ثانیہ کو اسے انیاب اغوال سے کہنا جنون،ہم اوپر ثابت کرچکے کہ زمانہ ممکن کہ کسی حالت ذہنیہ سے منتزع ہو،ممکن کہ بالا انتزاع اصالۃً ذہن میں موجود ہو اور دونوں صورتوں پر انیاب اغوال سے نہیں ہوسکتا۔
تنبیہہ نافع :اقول:حق یہ ہے کہ یہ ایك سخت کمند غیبی ہے کہ وہم کی گردن میں ڈالی گئی اور عقول ناقصہ کے سراس میں پھنس گئے۔" وَّلَلَبَسْنَا عَلَیۡہِمۡ مَّا یَلْبِسُوۡنَ ﴿۹﴾ "[1]۔(اور ہم نے ان پر وہی شبہ رکھا جس میں اب پڑے ہیں۔ت
کے زبردست ہاتھوں نے اس دارالامتحان میں اس کا حلقہ اتنا سخت محکم کردیا کہ۔ ع
تو چنداں کہ اندیشی گرد و بلند سرخود برون ناور دزین کمند
(تو جتنا اندیشہ کرے گا وہ اور بلند ہوگی،اس کمند سے اپنے سر کو نہیں بچایاجاسکتا)
ان کی ناقص عقلوں میں آ ہی نہیں سکتا کہ بھلا زمانہ کیونکر محض موہوم ہو ان کی بداہت وہم حکم کرتی ہے کہ اگر ذہن و ذاہن کچھ نہ ہوتے جب بھی زمانہ ضرور ہوتا،حالانکہ وہی بداہت حکم کرتی ہے کہ اگر فلك و حرکت کچھ نہ ہوتے جب بھی زمانہ ضرور ہوتا اسے بداہت وہم کہتے ہو اسے کیوں نہیں کہتے اتنی بات وسواس نے ان کے دلوں میں ڈالی اور یہ وہ پہلا بنیاد کا پتھر تھا جس پر صدہا کفریات کی عمارت چنتے چلے گئے جب زمانہ خود موجود متاصل ہے ضرور ازلی ابدی ہوگا ورنہ زمانے سے پہلے یا بعد زمانہ لازم آئے اور جب وہ سرمدی ہے ضرور حرکت فلکیہ کہ ان کے زعم میں یہ اس کی مقدار ہے ازلی ابدی ہے تو فلك الافلاك قدیم ہے پھر استحالہ خلا سے نیچے کے افلاك و عناصر قدیم ہیں غرض عالم قدیم ہے اور جو ان سے بھی زیادہ بدعقل تھے ان پر یہ گتھی اور بھی کری لگی ان کے عقل میں بھی نہیں آسکتا کہ کوئی موجود زمانہ سے خارج ہو،ایسی ہی وہم پر وری ان پر مکان وجہت سے پڑی بھلا جو کسی جگہ نہ ہو کسی طرف نہ ہو کسی وقت میں نہ ہو موجود کیسے ہوسکتا ہے ناچار
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع