30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الاخرۃ امین۔ |
ہماری دعا کو قبول فرما۔ت) |
مقام بست وہفتم
زمانے کے لیے خارج میں کوئی منشا انتزاع بھی نہیں۔
اقول:اس کا منشا انتزاع حرکت قطعیہ ہے یا توسطیہ یا آنًا فانًا حدود مفروضہ مسافت سے اس کی نسبت متجددہ یا آن سیال یا اس کا سیلان یا مسافت یا اس کا اتصال یا نسب متجددہ یا اس کے اتصال سے حرکت کا اتصال عرضی یا متحرك یا اس کا اتصال یا تجدد نسب،ان کے سوا تیرھویں کوئی چیز ایسی متعلق نہیں جس سے انتزاع زمانہ کا تو ہم ہوسکے،اور ان بارہ میں کوئی صالح انتزاع زمانہ نہیں اس کے لیے چار شرطوں کی جامعیت لازم۔
(۱)امتداد کہ بسیط غیر منقسم سے انتزاع امتداد معقول نہیں۔
(۲)عدم قرار کہ قارمن حیث ھوقار سے انتزاع غیر قارنا متصور۔
(۳)وجود خارجی کہ اسی میں کلام ہے۔
(۴)اس کا وجود زمانے پر موقوف نہ ہونا کہ دور نہ ہو۔
ان بارہ۱۲ میں سے کوئی ے ان چاروں شرائط کی جامع نہیں۔
شرط اول سے حرکتِ توسطیہ و آن سیال خارج کہ بسیط غیر منقسم ہیں۔
شرط دوم سے یہ دونوں اور مسافت و متحرك اور ان کے اتصال یہ چھ خارج کہ قار ہیں۔
شرط سوم سے باقی چھ نیز آن سیال،سات خارجی کہ ہم ثابت کر آئے کہ حرکت قطعیہ موجود فی الخارج نہیں تو اس کا اتصال عرضی بدرجہ اولی،اور یہ کہ آن سیال اور اس کا سیلان محض اختراع بے اصل ہے،اور نسبتوں کا اعیان سے نہ ہونا بدیہی،شرط چہارم سے سیلان آن اور تینوں تجدد نسب بلکہ حرکت قطعیہ اور اس کا اتصال عرضی بھی،یہ چھ خارج ہم مقام ۲۵ میں ثابت کر آئے کہ سیلان آن بلحاظ زمان ہی ہے اور تجدد کا زمانے پر توقف بدیہی کہ وہ نہیں مگر یہ کہ آن سابق میں نسبت یہ تھی اور لاحق میں یہ،اور عنقریب ہم مقام ۲۸ میں ثابت کریں گے کہ حرکت قطعیہ زمانے پر موقوف اور اس کا اتصال عرضی اس کی ذات پر موقوف ہونا ظاہر تو زمانے کا ان سے انتزاع دور ہے۔تو روشن ہوا کہ خارج میں کوئی منشاء نہیں جس سے انتزاع زمانہ ہوسکے اگر کہیے جب خارجی میں نہ زمانہ نہ اس کا منشاء انتزاع تو انیاب اغوال کی طرح محض
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع