30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ثالثًا اقول:خود کہتے ہو کہ زمانہ مقدار حرکت قطعیہ ہے،اور ہم ثابت کرچکے اور تمہارے سب اگلوں کو اعتراف تھا کہ حرکتِ قطعیہ موجود فی الخارج نہیں تو زمانہ ایك موجود ذہنی کو عارض ہوا اور جب یہ برہان سے ثابت تو اس پر یہ استبعاد کہ زمانہ تصور پر موقوف ہوگیا تصور نہ ہو تو زمانہ ہی نہ محض جہالت ہے ہاں ایسا ہی ہوگا پھر کیا محال ہے بلکہ ایسا ہی ہونا واجب کہ مقدار حرکت ہونے کو یہی لازم،اس کاجواب جُہلا کی طرف سے ادعائے بداہۃً ہوتا ہے کہ ہم بداہۃً جانتے ہیں کہ اگر ذہن و ذاہن نہ ہوں تو زمانہ ضرور ہوگا۔
اقول:بُرہانًا ہم جانتے ہیں کہ اگر ذہن و ذاہن نہ ہوں زمانہ ہر گز نہ ہوگا اور جواب ترکی بہ ترکی وہ ہے کہ مقام ۲۹ میں آتا ہے کہ ہم بداہۃً جانتے ہیں کہ اگر فلك وہ حرکت نہ ہوں زمانہ ضرور ہوگا۔اس پر سفہاء کہتے ہیں بداہت وہم ہے جب زمانہ اسی کی مقدار تو بے اس کے کیونکر ہوسکتا ہے ہم کہتے ہیں وہ تمہاری بداہت وہم ہے جب زمانہ ایك امر ذہنی کی مقدار تو بے ذہن و ذاہن کیونکر ہوسکتا ہے،فرق اتنا ہے کہ تم جس پر تکذیب بداہت کرتے ہو یعنی زمانے کا مقدار حرکت فلکیہ ہونا وہ ہر گز ثابت نہیں،جیسا کہ مقام ۲۹ میں آتا ہے تو تمہاری تکذیب کا ذب ہے اور ہم جو تمہاری بداہۃً وہمیہ کا رَد کرتے ہیں اس پر برہان ناطق ہے تو ہمارا رَد صادق ہے۔
رابعًا:حالت خارجی سے منتزع کا وجود ذہنی بھی تصور شیئ پر موقوف،تو اس میں اور قسم دوم میں فرق کرنا یہاں سلب و اضافت میں حصہ لینا اور وہاں یہ کہنا کہ وہ کسی تصور پر موقوف اور زمانہ ایسا نہیں اور شق اختراعی بڑھانا محض تطویل و تہویل ہے اصل اتنی ہے جو تمہارے دلوں میں ملادی گئی ہے کہ زمانے کا وجود اذہانِ پر موقوف نہیں،اگر یہ ثابت ہو تو پھر کسی تطویل و تہویل کی کیا حاجت،خود ہی مدعا ثابت اور اگر یہ ثابت نہیں اور بے شك نہیں تو اسے پیش کرنا صراحۃً مصادرہ علی المطلوب ہے اور تمہاری دلیل مردود و مسلوب،اس مصادرے کے چھپانے ہی کے لیے یہ تشقیق و شقشقہ تھا تشدق اسی کا نام ہے۔
شبہ ۶:زمانہ اگر انتزاعی ہو تو ضرور ہے کہ اس کا منشا انتزاع کم متصل غیر قار موجود فی الخارج ہو ورنہ تسلسل لازم آئے،اُسی منتشاء موجود خارجی کا نام زمانہ ہے(ملا حسن علی المتشدق)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع