30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بعد کسی تعمل ذہن کی محتاج نہ ہوگی کہ اختراعی نہیں واقعی ہے مثلًا جب کسی نے اپنے ذہن میں "زید قائم" حکم کیا خود اس سے لازم آیا کہ اس کے ذہن میں ایك موضوع دوسرا محمول ہے اگرچہ وہ وضع و حمل کا تصور نہ کرے لیکن جب تك ذہن میں یہ حکم نہ تھا وضع و حمل بھی نہ تھے۔
سوم:کسی شے کی حالت خارجی سے منتزع جیسے فوقیت و عمی یہ قسم اضافیات و سلوب میں منحصر ہے۔اور ظاہر ہے کہ نہ زمانہ اختراع محض ہے نہ کسی موجود ذہنی کو عارض کہ اسے تصور نہ کریں تو زمانہ ہی نہ ہو نہ وہ اضافت یا سلب ہے،لاجرم موجود خارجی ہے(متشدق فصل الظنون فی الزمان)یہ محض زخرفہ ہے۔
اولًا:منتزع عن الخارج کا سلب و اضافت میں حصر مردود،حرکت فلك سے جو دوائر صغارو کبار منطقہ سے قطبین تك منتزع ہوتے ہیں قطعًا اس کی حالت خارجیہ سے منتزع ہیں اور سلب و اضافت نہیں۔
ثانیًا اقول:موجود ذہنی واقعی کا دو میں حصر ممنوع کیوں نہیں جائز کہ کوئی شیئ ذہن میں اصالۃً پیدا ہو کہ نہ خارج سے منتزع ہو نہ کسی موجود ذہنی کی حالت،جیسے خود انتزاع کہ کسی موجود ذہنی کا وصف نہیں بلکہ موجود ذہنی اس سے پیدا ہوتا ہے اور منتزع بھی نہیں ورنہ انتزاع کے لیے انتزاع درکار ہو اور جانب مبدء تسلسل لازم آئے کہ منتزع کا وجود انتزاع پر موقوف اور یہ اعتباریات میں بھی محال فافھم عــــــہ (تو سمجھ لے ت۔)
|
عــــــہ:یشیرالٰی ان لقائل ان یقول انّ الا نتزاع من اعمال الذھن وھو و اعمالہ کا لتصور والحکم من الموجودات الخارجیۃ وانما الموجود الذھنی ماوجودہ بعمل الذھن فافھم وفیہ ان الکلام فی السند الخاص لایجدی المستدل ولا یغنیہ من جوع ۱۲ منہ غفرلہ۔ |
اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ کوئی کہنے والا کہہ سکتا ہے کہ ا نتزاع تو ذہن کے اعمال میں سے ہے۔اور وہ اور اس کے اعمال جیسے تصور و حکم موجوداتِ خارجیہ سے ہیں۔موجود ذہنی تو وہ ہوتا ہے جس کا وجود ذہن کی عمل سے ہو،تو سمجھ لے اور اس پر یہ اعتراض ہے کہ کسی سند خاص میں کلام مستدل کو نفع نہیں دیتا اور نہ بھوك میں اس کے کام آتا ہے۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع