30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اوراس سند کی کہ عدم حادث مقدم ہے حاجت نہیں جس پرایراد ہوکہ اس کاتقدم بالتبع ہے،اور کلام اس میں ہے جسے بالذات عارض ہواور اس کے سبب سے وجود پدریاعدم حادث کو۔
اقول:حل برقیاس سابق ہے دلیل،یہ قیاس مرکب ہے کہ زمانہ مابہ التقدم الواقعی ہے اورمابہ التقدم الواقعی موہوم نہیں اور جو موہوم نہیں موجود ہے۔مقدمہ ثانیہ میں اگر موہوم سے مراد معدوم فی الخارج ہے تومسلم نہیں بلکہ ادل نزاع ہے واقعی کے لیے خاص،خارجی کیا ضرور،اور اگر مخترع محض مراد،اور مقدمہ ثالثہ میں معدوم فی الخارج،تو حد اوسط متکرر نہیں،اور اگر یہاں بھی مخترع مراد تو اب موجود سے اگر موجود فی الخارج مقصود تو مقدمہ مردود،عدم اختراع سے خارجیت کب لازم،اور اگر مطلق موجود مراد توصحیح ہے،اوراب اتنا ثبوت ہواکہ زمانے کے لیے ایك نحو وجود ہے نہ کہ خاص خارجی۔
شبہ ۴:نافین زمانہ زبان سے انکار کرتے اور دل میں خوب مانے ہوئے ہیں،اُسے دنوں مہینوں،برسوں کی طرف تقسیم کرتے ہیں،وقائع معاملات کی تاریخیں اس سے منفبط کتے ہیں اپنی عمریں دراز،اعدا کی کوتاہ چاہتے ہیں۔(متشدق)
اقول اولا:گرفتار ان زمانہ زبان سے موجود خارجی کہتے اور دل میں خود اس سے منکر ہیں کہ اسے غیر قار متقضی متصرم مان رہے ہیں۔
ثانیًا:نفی واقعیت نہیں کی جاتی اور جو کچھ مذکور ہوا مستلزم خارجیت نہیں فلسفہ منطقۃ البروج کو بروج درجات و دقائق و ثوانی کی طرف تقسیم کرتے ہیں،ان سے تقویمات و انظار و اتصالات منضبط کرتے ہیں اپنے لیے اضافات مثل ابوت اعداء کے لیے سلوب عمی کی تمنا کرتے ہیں،حالانکہ ان میں سے کوئی کچھ موجود خارجی نہیں؟
ثالثًا:اس کی تقسیم اور ایك حصہ دراز ایك کوتاہ ہونا تمہارے نزدیك بھی نہیں مگر ذہنی پھر اُس سے وجود خارجی کیونکر لازم بلکہ واقعیت یہی لازم مجرد قسمت نہیں خطِ آبی و دائرہ ناری بھی صالح تقسیم ہیں۔
شبہ ۵:وجودِ ذہنی تین قسم ہے:ایك اختراعی محض جیسے انیاب اغوال:
دوم:وہ کہ شے کو اس کے وجود ذہنی کے لحاظ سے کوئی حالتِ واقعی عارض ہو۔ظاہر ہے کہ اسی شے کے تصور پر موقوف ہوگی کہ اس کے وجود ذہنی کے لحاظ سے ہے مگر اس کے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع