30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اس کی کمی بیشی کا اندازہ کررہا ہے،ضرور موہوم ہے۔(مواقف موضحًا)
شبہ ۲:بداہۃً معلوم کہ زمانہ قابل زیادت و نقصان ہے حرکت کہ ایك مسافت میں ایك زمانے میں ہوئی ضرور اس کا نصف اس سے کم میں ہوا،اور امر عدمی قابل زیادت و نقصان نہیں۔لاجرم زمانہ امروجودی ہے،یہ اول سے بھی زیادہ فاسد و کاسد ہے، شك نہیں کہ طوفانِ نوح علیہ الصلوۃ والسلام سے بعثتِ سید المرسلین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم تك جو زمانہ ہے وہ اس سے اکثر ہے جو بعثت سیدنا موسٰی علیہ السلام سے بعثتِ اقدس تک(مواقف)یونہی آج سے ختم ماہ حاضر تك جو زمانہ ہے وہ اس سے کم ہے جو آج سے دو ماہ آئندہ تك حالانکہ ماضی مسقبل سب معدوم ہیں۔
اقول:یہ سندیں مناسب نہیں کہ متشدق اور اس کے متبوع تمام ماضی و مستقبل کو موجود مانتے ہیں بلکہ یوں کہیے کہ شك نہیں کہ معدل النہار باقی سب مدارات یومیہ سے بڑا ہے اور ہر مدار کہ اس سے قریب ہے مدار بعید سے بڑا ہے اور ہر فلك بالا کا منطقہ فلك زیریں کے منطقے سے اور قطر قطر اور محور محور سے بڑا ہے حالانکہ ان میں سے کوئی شئے موجود خارجی نہیں بلکہ قطرہ سیالہ و شعلہ جوالہ کے خط آبی ودائرہ آتشی لیجئے وہ بھی قطعًا چھوٹے بڑے بھی ہوسکتے ہیں اور نصف و ثلث بھی۔حل یہ کہ تمہاری دلیل شکل ثانی ہے یعنی زمانہ قابل تفاوت ہے اور اگر معدوم قابلِ تفاوت نہیں یا شکل اول ہے اگر عکس کبرٰی کو کبرٰی کرو اور کبرٰی کو اس کی دلیل کہ سالبہ کلیہ کنفسہا منعکس ہے،بہرحال صغرٰی میں قابلیت خارجی میں مراد تو ہر گز مسلم نہیں بلکہ اول نزاع ہے،اور مطلق مراد اگرچہ ذہن میں ہو تو کبرٰی میں اگر قابلیت خارجی مقصود حَدِّ اوسط متکرر نہیں اور یہاں یہی مطلق مقصود،تو معدوم سے اگر معدوم فی الخارج مراد تو صراحۃً باطل اور سندیں وہی قطرو محورمنطقہ اور معدوم مطلق تو اتنا ثابت ہوا کہ زمانہ معدوم مطلق نہیں،نہ یہ کہ موجود خارجی ہے۔
شبہ ۳:باپ کابیٹے پر وجود میں تقدم قطعًا واقعی ہے اور بداہۃً زمانی ہے اور زمانہ موہوم ہو تو اس کے اعتبار کاتقدم بھی موہوم ہو حالانکہ واقعی ہے اسے بھی بہت طویل بیان کرتے ہیں جسے ہم نے ملخص کیا یہ بھی مردود ہے،تقدم امر عقلی ہے،نہ خارجی، و لہذا اعدام کو عارض ہوتاہے عدم،حادث اس کے وجود سے پہلے ہے اور جب وہ عقلی ہے تو مابہ التقدم خارجی ہوناکیا ضرور (مواقف)
اقول:شك نہیں کہ تقدم وتاخر نسبتین ہیں اور اعیان سے نہیں،اسی قدر بس ہے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع