30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
المال الی الورثۃ ، او یوصی بالثلث لا لوجہ الله لکن لتنقیص الورثۃ فھذا ھوالاضرار فی الوصیۃ وقال علیہ افضل الصلوۃ والسلام من قطع میراثا فرضۃ قطع الله میراثہ من الجنۃ ویدل علی ذلك قولہ تعالٰی بعد ھذہ الایۃ تلك حدود الله [1] اھ ملخصًا" |
مگر رضائے الہی کے لیے نہیں ورثاء کو ضرر دینے کے لیے کہ میرے بعد مال انہیں نہ ملے ، تو یہ سب وصیت میں اضرار کی صورتیں ہیں۔حضور صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص الله تعالٰی کے مقرر کردہ حصہ کو قطع کرتا ہے الله تعالٰی اس کا حصہ جنت سے قطع کردے گا۔ اس کے بعد والی آیت بھی اس کی تائید کرتی ہے کہ الله تعالی فرماتاہے۔ یہ الله تعالی کے حدودہیں۔ اھ ملخصًا |
امام ابن حجر مکی نے زواجرعن اقتراف الکبائر میں اسی تمسك و تائید کو مقرر رکھا ہے۔ اور قصد حرمان ورثہ کو حرام بتایا ، نیز تیسیر میں زیرحدیث فرمایا۔
|
"افادان حرمان الوارث حرام وعدّہ بعضھم من الکبائر"[2]۔ |
پتہ چلا کہ وارث کو محروم کر ناحرام ہے اور بعض علمائے کرام نے اس کو گناہ کبیرہ بتایا ہے۔ |
عزیزی میں ہے۔"فاذا حرمان الوارث حرام ۳ [3]۔ وارث کو محروم کرنا حرام ہے۔
منکر حدیث مذکور اگر ذی علم ہے اور بوجہ ضعف سند مکدم کرتا ہے فی نفسہ اس میں حرج نہیں مگر عوام کے سامنے ایسی جگہ تضعیف سند کا ذکر ابطال معنی کی طرف منجر ہوتا ہے اور انہیں مخالفتِ شرع پر جری کردیتا ہے۔ اور حقیقۃً"قبول علماء"کے لیے شانِ عظیم ہے کہ اس کے بعد ضعف اصلامضر نہیں رہتا۔"کما حققناہ فی الہاد الکاف فی حکم الضعاف"( جیسا کہ اس کی تحقیق ہم نے اپنے رسالہ الہاد الکاف فی حکم الضعاف میں کردی ہے۔ ت)
اور اگر جاہل ہے بطورِ خود جاہلانہ برسر پیکار ہے تو قابلِ تادیب و زجرو انکار ہے کہ جُہّال کو حدیث میں گفتگو کیا سزاوار ہے۔ وعیدِ حدیث اپنی اخوات کی طرح زجرو تہدید یا حرمانِ دخول جنت
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع