30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ذہن میں بھی قار نہیں،اور دوم پر خارج میں بھی قار ہے،بالجملہ زمانے کے موجود خارجی ماننے میں متشدق کی تمام سعی مردود و بے کار ہے،متشدق نے اواخر فصل زمان میں کہا عدم قرار بمعنی امتناع اجتماع اجزا ہے۔
اقول:یہ بھی ہماری اسی تقریر سے ردَ ہوگیا اجتماع فی الوجود الخارجی ممتنع ہے تو یہ ہمارا عین مقصود اور تمہارا زعم مردود،اگر اجتماع فی الحد الحاصل متمنع ہے تو یہ ہر قار میں حاصل متشدق نے یہیں اس سے پہلے کہا کہ عدم قرار کا صرف یہ حاصل کہ اگر اس میں اجزا فرض کیے جائیں تو ان میں ایك کا وجود پہلے ہو دوسرے کا بعد میں۔
اقول:وجود خارجی بوجود منشامراد یا وجود فی الانتزاع اول میں تقدم تاخر کہاں،کہ کل بوجود واحد متصل موجود بالفعل مانتے ہو اور ثانی سے اگر عدم قرار ہوا تو وجود ذہنی میں نہ خارجی میں۔عکس اس کا جو تم مانتے ہو۔دیکھئے معنی عدم قرار میں کیا کیابے قراریاں متشدق کو لاحق ہیں اور بنتی ایك نہیں۔
ابطال دلائل وجود حرکت بمعنی القطع
متشدق نے باب حرکت میں ادعا کیا کہ خارج میں حرکت قطعیہ کا وجود بدیہی ہے۔
اقول:حاشا بلکہ خارج میں اس کا عدم بدیہی ہے،مبدء سے منتہی تك کوئی شے ممتد متصل وحدانی ہر گز خارج میں نہیں بلکہ ایك شیئ مقتضی متجدد ہے جس کا ہر حصہ پہلے کی فنا پر آتا اور خود فنا ہو کر دوسرے کے لیے جگہ چھوڑتا ہے اس سے ذہن میں ایك اتصال موہوم ہوتا ہے اپنے شیخ کی اور خود اپنی نہ سنی کہ جب تك حرکت ہورہی ہے وہ اتصال موجود نہیں اور جب ہوچکی سب فنا ہوگیا۔متشدق کے حاشیہ میں حمد اﷲ نے وجود خارجی حرکت قطعیہ پریہ دلیل نقل کی کہ حرکت تو سطیہ بسیط غیر منقسم ہے جو اجزائے مسافت پر منطبق نہیں ورنہ منقسم وغیر منقسم کا انطباق لازم آئے وہ صرف ان حدود پر منطبق ہے جو مسافت میں فرض کی جائیں اور ہر دو حد کے بیچ میں جو مقدار مسافت رہی اس پر منطبق نہیں تو اگر خارج میں صرف حرکت توسطیہ میں موجود ہو تو چاہیے کہ متحرك کا اجزائے مسافت پر اصلًا گزر نہ ہو بلکہ ہر حد مفروض سے سے دوسری تك طفرہ کرے اور بیچ میں تمام مقادیر کو چھوڑتا جائے۔
اقول اولًا:تو حرکت توسطیہ ضرور طفرے کرتی ہے،طفرہ جیسے حرکت قطعیہ میں محال ہے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع