30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سابعًا:جز ء سابق لاحق سے جمع نہ ہونے کے ہرگز یہ معنی نہیں کہ دونوں ایك محل میں ہوں،ایسا تو قطعًا قسم دوم میں بھی نہیں، دو۲ خط کہ ایك دوسرے پر منطبق ہوں ایك پورا ثابت رہے اور دوسرے کا ایك کنارہ اس کنارے سے ملا رکھو۔دوسرے کنارے کو حرکت دو،یہاں تك کہ مثلًا ۶۰ درجے کا زاویہ ہیداہو اسے قسم دوم کی مثال بتایا ہے کہ حدوث تدریجًا ہو۔اور بعد تمامی حدوث اجزاء مجتمع ہیں کیا وہ انفراج جو پہلے درجے میں ہے ساٹھویں میں ہے سب درجے اپنی اپنی جگہ جدا نہیں کوئی مجنون ہی ایسا کہے گا بلکہ قطعًا یہی معنی کہ بعد تمامی سب مقارن فی الوجود ہیں بخلاف قسم اول متصرم کہ اس میں جو جزء آیا فنا ہوگیا اس کے بعد دوسرا آیا تو جب سابق تھا لاحق نہ تھا اب کہ لاحق آیا سابق معدوم ہوگیا تو مجتمع فی الوجود نہیں ہوسکتے یہ ہے زمانہ وحرکت قطعیہ،یہ پانچواں تناقض ہے۔
ثامنًا:سب کو اور خود متشدق کو مسلّم کہ زمانہ وحرکت قطعیہ غیر قار ہیں جب خارج میں متصل وحدانی ہیں قطعًا قار ہوئے۔یہ چھٹا تناقض ہے____ متشدق نے باب الحرکت میں کہا حرکت قطعیہ مو جود فی الاعیان ہے نہ بر وجہ قرار ذات کہ اجزا مجتمع ہوں کسی آن میں موجود ہو بلکہ بر وجہ فنا و انقطاع تو حرکت قطعیہ و زمانہ دونو ں اپنی ذات متصل وحدانی ہیں مگر جو آن فرض کرو ان کے وجود کی ظرف نہیں بلکہ وہ زمانہ ماضی و مستقبل میں حد فاصل ہے،ماضی یہ نہیں کہ فنا ہو گیا بلکہ اس آن کے اعتبار سے ماضی ہے بلکہ اس سے پہلے تھا،اور مستقبل یہ نہیں کہ ابھی وجود میں نہ آیا بلکہ اس آن کے اعتبار سے مستقبل ہے کہ اس کے بعد ہے،یہی حال حرکت قطعیہ کا ہے،خلاصہ یہ کہ وہ کسی آن میں نہیں آن ان کا ظرف نہیں،ان کے غیر قار فی الخارج نے سے یہی مراد ہے ہاں اذہان میں قار ہیں۔
اقول اوّلًا:تقضیو تصرم یعنی فنا و انقطاع مان کر فنا وانقطاع سے انکار وہی تناقض ہے مگر اسے اسی پر ڈھالنا کہ ماضی اس آن کے اندر نہیں اس کے اعتبار سے منقضی ومنصرم ہے،یونہی مستقبل اس آن کے اندر نہیں اس کے لحاظ سے متجدد ہے،غیر قار ہونے کا یہ حاصل ہے دنیا بھر میں کسی امتداد کو قار نہ رکھے گا مسافت قطعًا قار ہے مگر جس آن میں اس کی ایك حد معین میں ہو گا کہ جتنا حصہ مسافت کا طے ہو لیا اس حد میں ہرگز نہیں اس سے پہلے منقضی ہو چکا اور جو حصہ بعد کو طے ہو گا وہ بھی اس حد میں ہر گز نہیں اس کے بعد آئے گا تو مسافت بھی غیر قار اور منصرم ومتجدد ہوئی،اور بلا لحاظ حرکت بھی مسافت میں جو نقطہ دو حصوں میں حد فاصل فرض کرو ہرگز
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع