30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہاں یہ گمان ہوتا ہے کہ جب متحرك منتہی کے پاس پہنچے اس وقت یہ حرکت متصلہ حاصل ہوگئی اب اس میں سے کچھ باقی نہ رہا، حالانکہ ایسا نہیں بلکہ اس قت حرکت بالکل باطل ہوئی اب اس میں سے کچھ باقی نہ رہا،پھر صاف کہا کہ اسے وجود حقیقی کیسے مل سکتا ہے،حقیقی کی قید اس لیے کہ وجود انتزاعی ضروری ہے۔
ثالثًا:ابن سینا اگر تناقض کرے ہمیں بحث نہیں منتشدق خود اپنے تناقض کی خبر لے فصل زمان میں خود کہا:
|
تکون الحرکۃ حینئذ قد زالت لا انھا تحصلت[1]۔ |
اس وقت حرکت زائل ہوجاتی ہے نہ کہ حاصل ہوتی ہے۔ (ت) |
رابعًا:اور بڑھ کر پورا تناقض لیجئے اسی فصل میں ایك شقشقہ طویلہ کے بعد کہا:
|
فلاح ان الحرکۃ القطعیۃ حقیقۃ اعتباریۃ [2]۔ |
تو ظاہر ہوگیا کہ حرکت قطعیہ حقیقت اعتبار یہ ہے۔(ت) |
کیا حقائق اعتبار یہ حقائق متاصلہ فی الاعیان ہوتی ہیں یہ صریح شدید تناقض ہے مگر حافظہ نباشد۔
خامسًا: تمام فلاسفہ اور خود اس متشد ق کو مسلم کہ زمانہ و حرکت قطعیہ متجددو متصرم ہیں تقضی و تصرم ان کی ذات میں ہے پھر خارج میں متصل وحدانی کیسےہوسکتے ہیں،اتصال و تصرم کا اجتماع محال،یہ تیسرا تنافض ہے۔
سادسًا:خود اسی متشدق نے اواخر فصل تناہی ابعاد پھر فصل آن میں حادث بحدوث تدریجی کی دو قسمیں کیں۔ایك وہ کہ بروجہ تجدد و تصرم پیدا ہو جیسے زمانہ و حرکت قطعیہ واصوات ئ ان کے لیے کبھی کھی آن میں وجود نہ ہوگا۔دوسرا وہ کہ تدریجًا پیدا ہو مگر نہ بروجہ تجدد تصرم بلکہ جزسابق لاحق کے ساتھ جمع ہو،یہ پورا حادث ہونے کے بعد باقی رہ سکتا ہے ا ھ،صاف ظاہر ہوا کہ قسم اول کی اشیاء کو جن میں زمانہ و حرکت قطعیہ ہیں بقا نہیں و لہذا کسی آن میں ان پر حکم وجود نہیں ہوسکتا بخلاف قسم دوم کہ بعد تمامی حدوث اس پر ہر آن میں حکم وجود ہوگا۔اب پورا موجود ہے یہ چوتھا تناقض ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع