30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اور جز لازم نہیں کہ ممکن کہ نامنقسم وہی منقسم ہو۔
اقول:ہم تشقیق انقسام وہمی ہی میں لیتے ہیں،اگر موجود غیر منقسم فی الوہم ہے تو جز لازم ورنہ اجزاء مقدار یہ مجتمع فی الوجود ہو گئے،اور اسی قدر قار ہونے کو درکار نہ کہ بالفعل اجزاء ہونا جیسے ہر جسم متصل وحدانی خصوصًا فلك جس کا تجزیہ ان کے نزدیك محال تو اس کا انقسام نہ ہوگا مگر وہم میں طرفہ یہ کہ ارسطو وابن سینا اور ان کے چیلے ہمیشہ اسے تسلیم کرتے آئے کہ زمانہ و حرکتِ قطعیہ موجود فی الاعیان نہیں آن سیال و حرکتِ توسطیہ سے متوہم ہیں ولہذا شرح مقاصد میں ان کے وجود خارجی کو اسی طرف راجع فرمایا کہ ان کے راسم خارج میں ہیں جن سے یہ موہوم ہوتے ہیں۔کما تقدم۔
مگر متشدق جونپوری اس پر بہت کچھ رویا اور کہا یہ فلاسفہ وارسطو و ابن سینا پر افتراء ہے وہ یقینًا ساری حرکت قطعیہ اور تمام زمانہ ممتدازل تا ابد کو متصل واحدانی بالفعل موجود خارجی مانتے ہیں انکار اس کا کیا ہے کہ وہ کسی آن میں موجود نہیں کہ غیر قار ہیں اور غیر قار کا وجود کسی آن میں نہیں ہوسکتا۔اور اس پر کلام ابن سینا میں اشارہ بتایا کہ اس نے حرکت قطعیہ کو کہا لایجوز ان یحصل بالفعل قائمًا فی الاعیان(نہیں جائز کہ حاصل ہو بالفعل اس حال میں کہ قائم ہوا عیان میں۔ت)
دیکھو اس کے وجود فی الاعیان کا منکر نہیں بلکہ وجود قائم یعنی قار کا سب سے پہلے یہ اختراع خضری نے کیا پھر باقر پھر اس کے شاگرد صدر شیرازی پھر اس متشدق نے تقلید کی۔
اقول اولًا:ارسطو سے زمانہ خضری تك کی تصریحات اور قطرہ سیالہ و شعلہ جوالہ سے توہم خط و دائرہ کے تمثیلات جن سے عامہ کتب فلسفہ مملو اور ان سے عامہ کتب کلام میں منقول سب کو یہ قرار دینا کہ وہ اپنا مذہب نہ سمجھے کیونکر قابل قبول۔
ثانیًا:ابن سینا کا یہاں لفظ قائم دیکھ لیا کہ متحمل وجوہ ہے،اور وہیں حرکتِ توسطیہ میں اس کی تصریح ہے والاخریجوز ان یحصل فی الاعیان ۔(اور دوسرا ائز ہے کہ اعیان میں حاصل ہو۔ت)یہاں لفظ قائم کہاں مطلق حصول فی الاعیان کو توسطیہ سے خاص کررہا ہے اور سب سے صاف تر اس کے برابر حرکت قطعیہ میں اس کا قول ذلك لایحصل البتہ المتحرك وھو بین المبدء والمنتھی بل انما یظن انہ قد حصل نحوا من الحصول اذاکان المتحرك عنداالمنتھی ویکون ھزا المتصل المعقول قد بطل من حیث الوجود فکیف لہ حصول حقیقی فی الوجود دیکھو اس کا ایك ایك لفظ حرکت قطعیہ کے مطلقًا وجود عینی کا منکر ہے اسے معقول کہا اور کہا جب تك متحرك حرکت کررہا ہے اس کا حاصل نہ ہونا ظاہر،
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع