30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مقام بست وششم
زمانے کا وجود خارجی اصلًا ثابت نہیں۔یونہی حرکت قطعیہ کا کسبِ کلام میں انکار وجود زمانہ پر دلائل ہیں جن پر خدشات ہوئے اور کلام طویل ہے ہمیں ان میں سے یہ دو مختصر جملے پسند ہیں۔
اوّل: یہ کہ زمانہ مقدار حرکت قطعیہ ہے اور ہم ثابت کرچکے کہ حرکت قطعیہ موجود فی الخارج نہیں تو اس کی مقدار کیسے موجود فی الخارج ہوسکتی ہے۔شرح مقاصد میں اس سے جواب دیا کہ حرکت قطعیہ امر غیر قار ہے اس کے دو جز ایك ساتھ نہیں ہوسکتے بلکہ ایك جز ختم ہوتا اور دوسرا آتا ہے اُس کے وجود خارجی کے کے یہی معنی ہیں تو یہی حال اس کی مقدار زمانے کا ہے ہاں امر ممتد موجود فی الخارج نہیں بلکہ موہوم ہے۔
اقول:یہ اعتراف بالحق ہے زمانہ و حرکت قطعیہ انہیں ممتد متصل ہی کا نام ہے نہ اس غیر منقسم کا اور یہ کہنا کہ اس کے وجود خارجی کے یہی معنی ہیں۔
اقول:بلکہ اس کے عدم فی الخارج کے یہی معنی ہیں کہ وجود امتداد مع فنائے اجزا محال ہے بلکہ سارے امتدا د سے ایك جز فنا ہو تو مجموع فنا ہو کہ عدم جز عدم جز عدم کل ہے نہ کہ جب ہر جز فنا ہو اس کے بعد شرح مقاصد میں بحث طویل ہے جس کا حاصل وہی کہ حرکت توسطیہ وآن سیال موجود ہیں اور قطعیہ و زمانہ موہوم۔
اقول:رَدکو تائیداور اقرار کو انکار کیونکر قرار دیا جائے۔
دوم:یہ کہ زمانہ موجود اگر قابلِ انقسام ہو تو قار ہوگیا اور ناقابل تو جز لازم آیا کہ زمانہ حرکت اور حرکت مسافت پر منطبق ہے۔شرح مقاصد میں اس پر رد فرمایا کہ ہم شق اول اختیار کرتے ہیں اور اجتماع اجزا نہ ہوا کہ اجتماع معیت اور اجزاء زمانہ بعض بعض پر سابق دو جز ء ساتھ نہیں ہوسکتے کہ قار ہو۔
اقول اوّلًا:قار کے لیے وجود میں اجتماع درکار یعنی دونوں جز پر معًا حکم وجود صادق ہو یا محل واحد میں اجتماع علی الثانی مسافت وغیرہا تمام اجسام غیر قار ہوئے کہ ان کے کوئی دو جز ایك محل میں نہیں ہوسکتے ورنہ تداخل لازم آئے۔وعلی الاول ضرور زمانہ قار ہوا کہ جب موجود منقسم ہے تو سب اجزاء پر معًا حکم وجود صادق ہے۔
ثانیًا:زمانہ اگر موجود ہو تو اس کے اجزاء موہوم اختراعی نہیں بلکہ قطعًا مناشی موجود ہیں ان کا وجود اگر بروجہ تصرم ہو ا کہ ایك فنا ہو کر دوسرا آیا تو موجود نہیں مگر غیر منقسم اور اگر بلا تصرم ہوا یعنی پہلا باقی تھا کہ دوسرا آیا تو یہی اجتماع فی الوجود قرار ہے۔پھر فرمایا ہم شق دوم اختیار کرتے ہیں۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع