30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ذہن میں اسی کی صورت کے امثال پے درپے اتصال پا کر امتداد بناتے ہیں تو ممتدذہنی گویا اسی سیال خارجی کے امثال سے مرکب اور اس کی مقدار انہیں مقادیر امثال کا مجموعہ کہ اسی مقدار خارجی کے اضعاف ہیں۔اب یہاں ممتدذہنی تو حرکت قطعیہ ہے اوراس کی مقدار زمانہ خارج میں سیال،تم نے آن کو لیا۔
(۱)اس کی مقدار محال کہ وہ راسًا ناقابلِ انقسام،تو چار میں سے ایك تو یہ غائب ہوئی۔
(۲)وہ جو ایك خارج میں ہے مقدار کے مقابل نہیں بلکہ سیال کے تو چاہیے کہ آن حرکت قطعیہ کی جنس سے ہو اور حرکتِ قطعیہ کے حصوں سے ایك حصہ،یہ بھی باطل پھر اس کے سیلان سے ان کا ارتسام کیسا،اگر کہیے ہم وہ امر ممتد اور اس کی مقدار حرکت قطعیہ وزمانہ نہیں لیتے بلکہ زمانہ او راس کا امتداد،اب ممتد جنس سیال سے ہوگیا اور گویا اس کے حصوں سے ایك حصہ۔
اقول:اب بھی بوجوہ غلط۔
(۱)اب زمانہ متقدر ہوگیا حالانکہ مقدار ہے امتداد زمانے کو عارض ہوگیا حالانکہ وہ خود امتداد ہے۔
(۲)زمانہ اگر خارج میں موجود ہو آن نہ ہر گز اس کا حصہ ہوگی نہ حصہ کا مثل،بلکہ اس کی طرف۔
(۳)آن کی مقدار اب یہی معدوم جو امتداد زمانہ کے مقابل ہوتی اگر کہیے ہم وہ خارج کی دو چیزیں حرکت تو سطیہ و آن لیتے ہیں اور ذہن کی دو حرکت قطعیہ و زمانہ آن کو سیال اس لیے کہہ دیا ہے کہ سیال یعنی حرکت توسطیہ پر منطبق ہے اب تو چاروں کا تجانس و تعادل ہوگیا۔
اقول:اب بھی غلط:
(۱)جس طرح آن کے لیے مقدار نہیں آن کسی کے لیے مقدار نہیں۔
(۲)وہی کہ آن حصہ ئ زمانہ نہیں غرض خارج سے ذہن میں ارتسام زمانہ کسی پہلو ٹھیك نہیں آتا۔
سادسًا اقول:آن سیال کا حرکت تو سطیہ پر انطباق بھی محال،آن کسی وجہ سے کسی جہت میں اصلًا قابلِ انقسام نہیں اور حرکت توسطیہ صرف جہت مسافت سے منقسم نہیں کہ ایك نقطہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع