30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
معلوم نہیں ۔مطالع المسرات میں اس پر کوئی حدیث نہ لکھی ، مواہب اللدنیہ و سیرت شامی و زرقانی میں اس نام کا ذکر نہیں۔ معنی و اضح ہیں مخرج جائز طور پر کہ نسب و مولد و محل اشتہار و غلبہ یعنی حرمین طییبین کو شامل ہے اور حضور انور صلی الله تعالٰی علیہ وسلم بہمہ وجوہ کریم ہیں۔ خود کریم ، نسب کریم، مولد کریم، مہاجر کریم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم۔
مسئلہ ۷: ۲۸ ذوالقعدہ ۱۳۲۱ھ
ذیل میں جو حدیث تحریر کی جاتی ہے اس کی صحت اور غیر صحت کی نسبت اختلاف ہے۔ لہذا علمائے دین محمدی صلی الله تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں گزارش ہے کہ اگر حدیثِ مذکور صحیح ہے تو اپنے مُہر و دستخط فرمائیں۔ اور جو شخص منکر اس حدیث کا ہو اس کی نسبت شرع شریف میں کیا حکم ہے؟ بینّوا توجروا۔
|
"عن انس قال قال رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم من قطع میراث وارثہ قطع الله میراثہ من الجنّۃ یوم القیامۃ[1] رواہ ابن ماجۃ البیھقی فی شعب الایمان" |
حضرت انس رضی الله تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے اپنے وارث کو میراث سے کاٹا الله تعالٰی قیامت کے دن جنت سے اس کی میراث کو کاٹے۔ اس کو ابن ماجہ اور بیہقی نے شعب الایمان میں روایت کیا۔-(ت) |
الجواب :
یہ حدیث ابن ماجہ نے اپنی سُنن ابواب الوصایا باب الحیف فی الوصیۃ میں یوں روایت کی۔
|
"حدثناسوید بن سعید ثنا عبدالرحیم ابن زید العمٰی عن ابیہ عن انس ابن مالك رضی الله تعالٰی عنہ قال قال رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم من فرمن میراث وارثہ قطع الله میراثہ من الجنۃ یوم القیامۃ [2] |
سوید ابن سعید عبدالرحیم ابن زید سے حدیث بیان کرتے ہیں کہ وہ اپنے باپ سے وہ حضرت انس رضی الله تعالٰی عنہ سے کہ رسول کریم صلی الله علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جو آدمی اپنے وارث کی میراث سے بھاگے الله تعالٰی قیامت کے دن جنت سے اس کی میراث کاٹے۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع