30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
طور پر لازم کہ اسی نسبت سے پہلی قوت اُسے روزانہ ۱۰۰ میل کے ایك حصہ تك لے جایا کرے یعنی ایك میل کا دوسواں حصہ ۱۷۶گز یا ہزارواں حصہ ۷۶ء ۱ گز کہ پونے دو گز عــــــہ سے زائد ہوا حالانکہ وہ یقینًا اسے اصلًا نہیں ہلاسکتی۔
ثالثًا:اگر کہیں کہ جذب مرکز سے ہے کہ میل ہو یا جذب ضرور جانب مرکز ہے تو مانحن فیہ میں سرے سے تقسیم حصص کا جھگڑا ہی نہ رہے گا۔
تکملہ:یہ دونوں اعتراض ہم نے بفضلہ تعالٰی بہ نگاہِ اولین کیے تھے پھر جو نپوری کی کتاب دیکھی تو اس میں دونوں مع نام جواب پائے۔
اول پر اقرار کردیا کہ اس صورت میں ہماری یہ دلیل جاری نہیں پھر اس پر یہ عذر بارد گھڑا کہ جب ہم ثابت کرچکے کہ قوتِ جسمانیہ ایك سلسلہ غیر متناہیہ پر قادر نہیں تو زیادہ پر کیسے قادر ہوجائے گی۔اس کا مطلب حمد ا ﷲ کی سمجھ میں نہ آیا اُلٹ پھیر کر انہیں لفظوں کو دہرادیا اور کہا ھذا ماعندی فی حل ھذہ العبارۃ(یہ وہ ہے جو اس عبارت کے حل میں میرے پاس ہے۔ت)
اقول:اس کا مطلب عقل میں نہ آنا بعید نہیں کہ اس کا مطلب خود عقل سے بعید ہے وہ یہ کہتا ہےکہ تم نے جزو و کل میں فرق یہ نکالا کہ مثلًا قوت کا سوواں حصہ ایك دن میں ایك دورہ دے تو پوری قوت ایك دن میں سو دورے دے گی،اور دن غیر متناہی ہیں تو اس کی اکائیاں نامتناہی ہوں گی اور اس کی صدیاں بھی،گویا وہ ایك سلسلہ غیر متناہیہ پر قادر ہوا۔اور یہ سو سلاسل نامتناہی پر تو جز و کل کا فرق یہی رہا اور تناہی نہ ہوئی لیکن ہم بیان کرچکے کہ کل قوت ایك سلسلہ پر قادر نہیں،ورنہ جزء و کل برابر ہوں تو سو سلسلوں پر کہاں سے قدر ہوجائے گی۔یہ اس کے مذعوم کی تقریر ہے۔
اقول:یہ محض مغالطہ یا نِری سفاہت ہے بشرط شے و بشرط الامین فرق نہ کیا،جز ایك سلسلہ پر قادر ہو تو کل ضرور ایك پر قادر نہ ہوگا ورنہ کل و جز برابر ہوجائیں مگر یہ ایك پر اس کی قدرت کا سلب کس معنی پر ہے یا بایں معنی کہ صرف ایك ہی پر قادر نہیں بلکہ سو پر ہے نہ بایں معنی کہ ایك اس کی قدرت ہی نہیں جو سو پر قادر ہے قطعًا ایك اور اس کے
عــــــہ:یعنی ۱۔۲۵/ ۱۹ گز ۱۲ الجیلانی۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع