30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مقام بست و چہارم
قوتِ جسمانیہ کا غیر متناہی پر قادر ہونا محال نہیں فلسفی محال مانتا ہے اس کی دلیل کی کہ ابن سینا نے دی اور آج تك متداول رہی۔تلخیص یہ ہے کہ حرکت غیر متناہیہ اگر قوتِ جسمانیہ سے ہو تو اس قوت کے حصے ہوسکیں گے کہ جسم میں ساری ہے کہ تجزی جسم سے متجزی ہوگی۔اب ہم پوچھتے ہیں اس قوت کا حصہ مثلًا نصف بھی تحریك کل یا بعض جسم پر قادر ہے یا نہیں،اگر نہیں تو یہ سارے جسم میں ساری ہونے کے خلاف ہے،اور اگر ہاں تو قوت کا حصہ کل جسم یا بعض جسے حرکت دے سکے ضرور کل قوت بھی اسے حرکت دے سکتی ہے ورنہ جز کل سے بڑھ جائے اب حصے کی تحریك مدت
|
عنہ القول بقدم العرش و ھو شخص فالمعنی قد قال بالقدم النوعی بعض الضالین ولا عزو فقد قال ابن تیمیہ بالقدم الشخصی فی العرش ھذا ولا یبعد من جہالات ابن تیمیۃ ان یقول فی العرش بالقدم النوعی فقد نقلوا عنہ التجسیم والجسم لا بدلہ من مستقر ولم یتجاسرعلی اثبات قدیم بالشخص فعاد الی النوعی اولم یرض معبودہ ان یبقی دائمًا علٰی عرش خلق وقد وھن من طول الامد فاستجندلہ عرشًا کل حین ھذا کلہ ان ثبت عنہ واﷲ تعالی اعلم ۱۲ منہ غفرلہ۔ |
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ) دیتا ہے ابن تمیہ کی طرف سے قدم عرش کا قول کرنا جو کہ شخص ہے،چنانچہ معنی ی ہوا کہ بعض گمراہ قدم نوعی کے قائل ہیں اور بے شك ابن تیمیہ عرش کے قدم شخصی کا قائل ہے اور ابن تیمیہ کی جہالتوں سے بعید نہیں کہ وہ عرش کے بارے میں قدم نوعی کا قول کرے،کیونکہ اس سے منقول ہے کہ وہ اﷲ تعالٰی کے لیے جسم مانتا ہے اور جسم کے لیے مستقر کا ہونا ضروری ہے۔اور اس نے قدیم شخصی کے اثبات کی جسارت نہ کی،لہذا قدم نوعی کی طرف عود کیا،یا اس کا معبود اس بات پر راضی نہ ہوا کہ وہ ہمیشہ پرانے عرش پر رہے گا جو کہ طویل عرصہ گزرنے پر کمزور ہوچکا ہے تو اس نے ہر گھڑی نیا عرش چاہا ہے یہ تمام اس صورت میں ہے جب کہ ابن تیمہ سے یہ قول ثابت ہو۔اور اﷲ تعالٰی خوب جانتا ہے ۱۲ منہ غفرلہ(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع