30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تعریفیں اﷲ کے لیے ہیں جو پروردگار ہے تمام جہانوں کا۔ت)
تنبیہ:ملتِ اسلامیہ میں ذات و صفات الہی عزجلالہ کے سوا کوئی شے قدیم نہیں،انواع بھی غیر ذات وصفات ہیں تو کسی شے کا قدم نوعی ماننا بھی مخالف اسلام ہے بلکہ ہم روشن کرچکے کہ قدم نوعی بے قدم شخصی ناممکن،اور غیر کے لیے قدم شخصی ماننا قطعًا ضروریات دین کا انکار ہے۔فاضل دوانی نے کہ ان دو حجتوں پر وہ بحثیں کردیں،اور ان سے پہلے فلاسفہ کی دلیل قدم عالم پر دو جگہ رد میں کہا کہ اس سے قدم جنسی لازم آیا نہ شخصی،یہ سب عادت نظار پر ہے دلیل مخالف میں یہ کہنا کہ اس سے اتنا لازم آیا نہ وہ کہ تیرا مدعا ہے اس سے مقصود اس قدر کہ دلیل اس کے مدعا کی مثبت نہیں۔نہ یہ کہ جو لازم بتایا مسلم ہے کہ بلکہ وہ برسبیل تنزل وارخائے عنان بھی ہوتا ہے اور دلیل موافق پر نقض سے تو معاذ اﷲ مدعا میں کلام مفہوم بھی نہیں ہوتا یہاں تك کہ بعض دلائل توحید و وجود واجب پر ابحاث کرتے ہیں اس سے مقصود صرف اس دلیل خاص کی تضعیف ہوتی ہے آخر یہ وہی فاضل ہیں جنہوں نی اس کے بعد براہین تطبیق و تضانیف کا بلا شرط اجتماع و ترتیب مطلقًا جاری ہونا بہ سعی بلیغ ثابت کیا،کیا وہ ابطال قدم نوعی کو کافی نہیں قطعًا عــــــہ کافی ہیں۔
|
عــــــہ:اما قولہ بعد ذکر القدم الجنسی وقد قال بذلك بعض المحدثین المتاخرین وقدرایت فی بعض تصانیف ابن تیمیہ القول بہ فی العرش اھ[1]۔ فاقول:ما یدریك وان المحدثین ھھنا من التفعیل دون الا فعال بل ھو المتعین فان القائل بہ لاشك مبتدع ضال ویؤیدہ نقلہ عن ابن تیمیۃ احد الضلال ویشیدہ ان المذکور |
رہا اس کا قول قدم جنسی کے ذکر کے بعد کہ بعض متاخرین محدثین اس کے قائل ہیں اور میں نے ابن تیمیہ کی بعض تصانیف میں عرش کے بارے میں یہ قول دیکھا ہے ا ھ تو میں کہتا ہوں کہ تجھے کیا خبر ہے کہ محدثین یہاں پر تفعیل سے ہے نہ کہ افعال سے بلکہ افعال سے ہونا ہی متعین ہے کیونکہ اس کا قائل بلاشبہ بدعتی گمراہ ہے ابن تیمیہ جو کہ ایك گمراہ ہے سے اس کا نقل کرنا اس کی تائید کرتا ہے۔اور اس کو تقویت (باقی برصفحہ آئندہ) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع